یمن اردو: یمن کے خلاف سعودی عرب اور صہیونی حکومت کا گٹھ جوڑ اب خود اسرائیلی میڈیا کی زبانی سامنے آ گیا ہے۔ اسرائیلی اخبار یدیعوت آحارونوت کی رپورٹ کے مطابق یمنی کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے صہیونی حکومت اور سعودی عرب کے درمیان انٹیلی جنس تعاون بڑھ رہا ہے، اور اس ہم آہنگی میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ذریعے انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور اہداف کی نشاندہی شامل ہے۔ یہ وہی سعودی حکومت ہے جو خود کو امت مسلمہ کی قیادت کا دعویدار کہتی ہے۔

یدیعوت آحارونوت نے سعودی عرب کو جدید اسرائیلی فضائی دفاعی نظام، جن میں آئرن ڈوم اور ڈیوڈز سلنگ شامل ہیں، فراہم کیے جانے کے امکان کو سعودی عرب اور صہیونی حکومت کے درمیان براہ راست تعلقات کی بحالی (نارملائزیشن) سے جوڑا ہے۔ اخبار کے مطابق براہ راست اسرائیلی فوجی مدد اب بھی وسیع تر سیاسی معاملات سے مشروط ہے، اور ریاض کے سکیورٹی خدشات اس کے سیاسی حساب کتاب پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: سعودی تیل اور ہوائی اڈے نشانے پر، 48 گھنٹوں میں 6 یمنی کارروائیاں

اسی دوران اسرائیلی اقتصادی ویب سائٹ بز پورٹل نے سعودی ہوابازی کے شعبے کو پہنچنے والے بھاری نقصان کا اعتراف کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے سکیورٹی خدشات کے باعث سعودی ہوائی اڈوں سے تیزی سے اپنے طیارے نکال لیے ہیں، جن کی مالیت 4 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر طیاروں کی تعداد ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں 134 سے گھٹ کر 38 رہ گئی، یعنی تقریباً 72 فیصد کمی۔ رپورٹ کے مطابق چھ طیاروں کو نقصان پہنچا، جن میں دو سعودی طیارے شامل ہیں، اور ان میں سے ایک ریاض ایئرپورٹ پر آگ لگنے سے مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

اسرائیلی چینل 12 نے بھی تسلیم کیا ہے کہ سعودی عرب، امریکہ، برطانیہ اور صہیونی حکومت کے برسوں کے فضائی حملے یمن کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ چینل کے مطابق یمن نے اپنے اسلحے کو ترقی دینا اور اپنی کارروائیوں کا دائرہ بڑھانا جاری رکھا ہے، جس کے پیچھے بڑھتی افرادی قوت اور کم لاگت مقامی اسلحہ سازی ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کی 2024 کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے چینل نے یمن کے متنوع اسلحہ خانے کا ذکر کیا، جس میں بیلسٹک اور کروز میزائل، ڈرون اور جہاز شکن ہتھیار شامل ہیں۔

چینل 12 نے یہ بھی کہا کہ مقامی طور پر تیار ہونے والے سستے یمنی ہتھیار سعودی فضائی دفاع کے لیے بڑھتا ہوا چیلنج ہیں، کیونکہ انہیں روکنے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کی قیمت ان ہتھیاروں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ یہ اعترافات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب یمنی مسلح افواج سعودی عرب کی اسٹریٹجک تنصیبات اور ریاض ایئرپورٹ کو نشانہ بنا رہی ہیں، اور صاف ظاہر کرتے ہیں کہ یمن کے خلاف جنگ میں ریاض تنہا نہیں بلکہ صہیونی انٹیلی جنس اس کی پشت پر کھڑی ہے۔

ماخذ: المسیرہ