یمن اردو: یمن پر سعودی جارحیت نے نئی شدت اختیار کر لی ہے۔ یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع کے مطابق سعودی افواج نے صرف 24 گھنٹوں میں 110 فضائی اور میزائل حملے کیے، جن میں دارالحکومت صنعاء سمیت متعدد صوبوں کے شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں 30 سے زائد افراد شہید یا زخمی ہوئے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی سبا کے حوالے سے بریگیڈیئر جنرل سریع نے بتایا کہ حملوں کی زد میں صنعاء کے علاوہ الحدیدہ، تعز، عمران، حجہ، صعدہ، الجوف، الضالع اور مأرب آئے۔ ان کارروائیوں میں خمیس مشیط اور طائف کے فضائی اڈوں سے اڑنے والے ایف-15 اور ٹائیفون طیارے استعمال ہوئے، جبکہ میزائل حملے نجران سے کیے گئے۔

مزید پڑھیں: خاندان ملبے تلے، صعدہ پر سعودی بمباری

ترجمان کے مطابق ان تازہ حملوں کے بعد کشیدگی کے آغاز سے اب تک سعودی فضائی و میزائل حملوں کی مجموعی تعداد 2,652 ہو گئی ہے۔ ایک روز قبل یہی تعداد 2,542 بتائی گئی تھی، جب سعودی طیاروں نے 53 حملے کیے تھے۔ یمنی وزارتِ مواصلات کے مطابق حالیہ کشیدگی کے دوران حملوں سے ملک بھر میں 902 مواصلاتی مقامات اور اسٹیشن ناکارہ ہو چکے ہیں۔

یمنی وزارتِ خارجہ و تارکینِ وطن نے ہفتے کو جاری بیان میں کہا کہ سعودی فوج گزشتہ برسوں کی طرح عام شہریوں اور شہری ڈھانچے کو نشانہ بنا رہی ہے۔ وزارت نے ان حملوں کو بین الاقوامی انسانی قانون، بالخصوص 1949 کے چوتھے جنیوا کنونشن اور 1977 کے اضافی پروٹوکول اول کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

جوابی کارروائی میں یمنی افواج نے اتوار کو ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا، جس سے نقصان ہوا اور پروازیں متاثر ہوئیں، جبکہ سعودی دارالحکومت میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ بریگیڈیئر جنرل سریع نے سعودی تیل تنصیبات کے ماہرین اور ملازمین کو ان مقامات سے دور رہنے کا انتباہ بھی دیا ہے۔

یاد رہے کہ موجودہ کشیدگی جولائی میں صنعاء بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سعودی بمباری کے بعد شروع ہوئی، جس کے جواب میں صنعاء نے 20 جولائی کو تقریباً 12 برس سے جاری ظالمانہ محاصرے کے ردعمل میں «محاصرے کے بدلے محاصرہ» کی پالیسی اپناتے ہوئے بحیرۂ احمر میں سعودی جہاز رانی پر پابندی کا اعلان کیا۔

ماخذ: پریس ٹی وی، المسیرہ