یمن اردو: المسیرہ ٹی وی نے ہفتے کی شام قائدِ انقلاب سید عبدالملک بدرالدین الحوثی کا حماس کے رہنما یحییٰ السنوار کے نام خط شائع کیا ہے، جو السنوار کی شہادت سے تقریباً ایک ماہ قبل لکھا گیا تھا۔ السنوار کے نام خط میں یمن کی فلسطینی مزاحمت کے ساتھ وابستگی اور اسرائیلی دشمن کے خلاف محاذ کو وسعت دینے کے منصوبوں کی تفصیل سامنے آئی ہے۔

خط میں سید عبدالملک نے کہا کہ آپریشن طوفان الاقصیٰ کے آغاز سے یمن ایک مقدس جنگ میں فلسطینی مجاہدین کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ انہوں نے اس آپریشن کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کو سراہتے ہوئے اسے بڑی کامیابی قرار دیا۔

مزید پڑھیں: چند گھنٹوں میں دو شکار، یمنی فضائی دفاع کا کمال

قائدِ انقلاب نے حماس اور اس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کو امتِ اسلامیہ کا پرچمِ مزاحمت قرار دیا اور زور دیا کہ اسلامی مقدسات کا دفاع، فلسطین کی آزادی اور فلسطینی عوام کو بچانا تمام مسلمانوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے فلسطین کے لیے وسیع عوامی ہمدردی کے باوجود اکثر عرب اور مسلم حکومتوں کی جانب سے مؤثر حمایت نہ کرنے پر تنقید کی۔

خط میں یمن کی میزائل صلاحیتوں کی ترقی اور اسرائیلی دشمن کو مقبوضہ فلسطین کے اندر گہرائی تک، بشمول مقبوضہ یافا، نشانہ بنانے والے پانچویں مرحلے کی تیاری کا ذکر کیا گیا۔ سید عبدالملک نے بحیرۂ احمر، خلیج عدن، باب المندب اور بحیرۂ عرب میں یمنی بحری کارروائیوں کو اجاگر کرتے ہوئے بحرِ ہند اور بحیرۂ روم تک کارروائیاں پھیلانے کے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا۔

انہوں نے السنوار کو بتایا کہ امریکہ نے یمن کی بحری کارروائیاں روکنے کے لیے 700 سے زائد فضائی حملے کیے لیکن وہ اپنے مقصد میں ناکام رہا۔ انہوں نے زور دیا کہ فلسطین کی حمایت دینی، انسانی اور برادرانہ اصولوں پر قائم ہے اور کسی سیاسی، فوجی یا معاشی دباؤ سے متاثر نہیں ہو گی۔

خط کے اختتام پر قائدِ انقلاب نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اسرائیلی وجود بالآخر مٹ جائے گا۔ المسیرہ کے مطابق یہ خط مزاحمت کی حمایت، مغربی فوجی دباؤ کو مسترد کرنے اور فلسطینی کاز کے حصول تک اسرائیلی دشمن کا مقابلہ جاری رکھنے کے یمنی عزم کا آئینہ دار ہے۔

ماخذ: المسیرہ