یمن اردو: امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اعتراف کیا ہے کہ یمن کی جنگ اور یمنی مسلح افواج کی کارروائیوں نے سعودی عرب کی عسکری صلاحیتوں کی خامیاں پوری طرح بے نقاب کر دی ہیں۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق ریاض کے پاس جدید ترین ہتھیار موجود ہیں، لیکن یمنی مسلح افواج ایک ڈٹ جانے والا حریف ثابت ہوئی ہیں، اور میزائل اور ڈرون حملوں نے ریاض کو یمن جنگ کے ایک نئے اور خطرات سے بھرپور مرحلے میں دھکیل دیا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سعودی عرب دنیا کے سب سے بڑے دفاعی بجٹ رکھنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس کی افواج امریکہ اور دیگر ممالک سے حاصل کردہ جدید جنگی طیاروں اور فضائی دفاعی نظاموں سے لیس ہیں۔ اس کے باوجود تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یمنی مسلح افواج "غیر معمولی طور پر سخت جان” حریف ہیں، جن کے پاس بڑی زمینی فوج کے ساتھ ساتھ میزائل اور ڈرون تیار کرنے کی مقامی صلاحیت بھی موجود ہے، جس کے ذریعے وہ سعودی فوجی طاقت کا مؤثر مقابلہ کر رہی ہیں۔ اخبار نے لکھا کہ سعودی فضائی دفاع کو یمنی میزائل گرانے کے لیے ضروری انٹرسیپٹر میزائلوں کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ امریکہ سمیت ریاض کے اہم اتحادی براہ راست فوجی مدد دینے سے ہچکچا رہے ہیں اور اب تک امریکی مدد انٹیلی جنس اور دیگر معاونت تک محدود ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی فوجی برتری انصار اللہ یمن کے سامنے ناکام، امریکی تھنک ٹینک اسٹمسن

رپورٹ کا سب سے سنگین انکشاف یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ یمن کے خلاف اپنی جنگ میں اسرائیل کی فوجی مدد قبول کرے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ریاض، جس کے رسمی سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجود پس پردہ اسرائیل کے ساتھ وسیع سکیورٹی تعلقات ہیں، اس تجویز پر اب تک کوئی عوامی ردعمل نہیں دے سکا۔ اخبار کے مطابق ریاض نے ترکی، پاکستان اور یورپی ممالک سے بھی مدد مانگی ہے، جنہوں نے سعودی عرب کے اندر فضائی دفاعی یونٹ تعینات کیے ہیں اور دیگر فوجی معاونت فراہم کی ہے، جبکہ مصر نے بھی اتوار کو فوجی مدد کے لیے آمادگی ظاہر کی۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب زمینی لڑائی کے لیے آپس میں دست و گریباں کرائے کی ملیشیاؤں پر انحصار کر رہا ہے اور اپنے یمنی اتحادیوں کی مدد کے لیے غیر ملکی جنگجو بھرتی کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل نے یمنی صلاحیتوں کو ایران سے تشبیہ دی، جسے شکست دینا امریکہ کے لیے مشکل ثابت ہوا، اور لکھا کہ یمنیوں نے موبائل میزائل لانچروں کا ذخیرہ اور زمین کی گہرائی میں دبی میزائل ساز تنصیبات تیار کر لی ہیں جن کی بدولت وہ فضائی حملوں کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یمنی افواج سعودی اتحاد کے حملے جذب کرتے ہوئے سعودی سرزمین کی گہرائی میں کمزور دفاع والے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ سعودی عرب میں سابق امریکی سفیر اور واشنگٹن کے مرکز برائے اسٹریٹجک و بین الاقوامی مطالعات کے سینئر مشیر مائیکل ریٹنی نے کہا: "کسی نہ کسی مرحلے پر انہیں نکلنے کا راستہ تلاش کرنا ہی ہوگا، کیونکہ حوثی جدت اور غیر روایتی انداز میں جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔”

اسی دوران برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے بھی اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ریاض ایئرپورٹ اور اہم تنصیبات پر یمنی حملوں نے سعودی سکیورٹی اور دفاعی نظام کی انتہائی کمزوری عیاں کر دی ہے اور صنعاء اب طاقت کی پوزیشن میں ہے۔ اخبار کے مطابق سعودی عرب میں سابق برطانوی سفیر سر جان جینکنز نے کسی بھی فوجی فتح کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے اس کی وجہ یمنی جنگجوؤں کا طویل میدانی تجربہ، علاقے سے گہری واقفیت اور ان کی مضبوط قیادت کو قرار دیا، جبکہ جنگ کے برسوں میں سعودی فوجی کارکردگی کمزور رہی۔ سنڈے ٹائمز کے مطابق یمنی کارروائیوں کے باعث سعودی عرب میں متعدد کانفرنسیں اور نمائشیں منسوخ ہو چکی ہیں اور ویژن 2030 کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

ماخذ: الحقیقہ (وال اسٹریٹ جرنل اور سنڈے ٹائمز کی رپورٹوں کے حوالے سے)