یمن اردو: یمن پر سعودی جارحیت کا اصل چہرہ سرکاری اعداد و شمار نے بے نقاب کر دیا ہے۔ یمنی وزارت صحت و ماحولیات نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ 3 ستمبر کو کشیدگی کے آغاز سے 18 اکتوبر تک سعودی حملوں میں 536 یمنی شہری شہید اور زخمی ہو چکے ہیں، اور ان میں سب سے بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
وزارت کے بیان کے مطابق اس عرصے میں 141 افراد شہید اور 395 زخمی ہوئے۔ سب سے زیادہ جانی نقصان تعز میں ہوا جہاں کل متاثرین کا 32.3 فیصد ریکارڈ کیا گیا، اس کے بعد صعدہ 22.2 فیصد اور الجوف 16 فیصد کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔
مزید پڑھیں: یمنی خاندان ملبے تلے، صعادہ پر سعودی بمباری
یمنی وزارت صحت نے دوٹوک کہا ہے کہ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ سعودی دشمن جان بوجھ کر شہری املاک اور خدمات کی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ وزارت کے مطابق سعودی جارحیت میں عالمی سطح پر ممنوعہ ہتھیار اور کلسٹر بم استعمال کیے گئے، جنہوں نے شہریوں کے گھر تباہ کر دیے اور پیچھے ایسا دھماکہ خیز مواد چھوڑ دیا جو آج بھی شہریوں کی جان کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔
تباہی کا یہ سلسلہ رکا نہیں۔ انسانی حقوق کے یمنی ادارے عین الانسانیہ مرکز برائے حقوق و ترقی کے مطابق صرف 72 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں سعودی حملوں میں 127 شہری شہید و زخمی ہوئے، جن میں 37 شہداء میں 11 بچے اور 5 خواتین، جبکہ 90 زخمیوں میں 26 بچے اور 15 خواتین شامل ہیں۔ صعدہ کے ضلع سحار کے علاقے الطویلہ میں شہری علی القحم کے گھر پر حملے میں 33 افراد شہید و زخمی ہوئے، جبکہ اس سے ایک روز پہلے ذمار کے ضلع ضوران آنس میں شہری گھروں پر کلسٹر بم برسائے گئے۔
یمنی وزارت صحت نے ان کارروائیوں کو جنگی جرائم اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری اقدام اور سعودی حکومت کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یمنی ماؤں اور بچوں کے خون پر خاموش عالمی ادارے کب تک آنکھیں بند رکھیں گے؟
ماخذ: المسیرہ


