یمن اردو: سعودی دارالحکومت ریاض میں منگل اور بدھ کی درمیانی رات خطرے کے سائرن بج اٹھے، جبکہ مشرقی سعودی شہر دمام کے شاہ فہد ہوائی اڈے پر پروازوں کا نظام رک گیا۔ المسیرہ ٹی وی کے مطابق سعودی ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ ریاض میں لوگوں کو خطرے سے خبردار کرنے کے لیے سائرن بجائے گئے۔ سعودی خبروں کے ایک بڑے صفحے نے سعودی شہری دفاع کے حوالے سے ریاض میں پیشگی خبردار کرنے والے سائرن بجنے کی تصدیق کی۔

اس سے کچھ دیر پہلے المسیرہ ٹی وی نے پروازوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار کے حوالے سے بتایا کہ دمام کے شاہ فہد ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمد و رفت رک گئی ہے۔ ابھی تک سعودی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ سائرن کس وجہ سے بجائے گئے، اور یمنی مسلح افواج کی طرف سے بھی اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے ریاض میں دھماکوں کی آوازیں سننے کا دعویٰ کیا ہے، مگر کسی معتبر ذریعے نے اس کی تصدیق نہیں کی۔

مزید پڑھیں: یمنی ڈرون حملوں سے دمام ہوائی اڈے پر پروازیں رک گئیں، ترجمان یمنی مسلح افواج یحییٰ سریع

یہ واقعہ ایسے وقت ہوا ہے جب چند گھنٹے پہلے ریاض میں امریکی سفارت خانے نے دوبارہ خبردار کیا تھا کہ یمن کی طرف سے سعودی ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حملے بڑھ رہے ہیں اور سعودی فضائی حدود بند ہو سکتی ہیں۔ پچھلے دنوں میں یمنی مسلح افواج دمام، ابہا اور جیزان کے ہوائی اڈوں اور خمیس مشیط کے فضائی اڈے کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنا چکی ہیں۔

دوسری طرف سعودی جارحیت یمن پر جاری ہے۔ المسیرہ ٹی وی کے نامہ نگار کے مطابق اسی رات سعودی طیاروں نے تعز کے ضلع الصلو کی عزلت القابلہ میں ایک طبی مرکز پر بمباری کی۔ صنعاء کا کہنا ہے کہ سعودی عرب پر یمنی کارروائیاں یمن پر جارحیت اور محاصرے کا جواب ہیں اور جارحیت رکنے تک جاری رہیں گی۔

ذریعہ: المسیرہ ٹی وی، فلائٹ ریڈار، سعودی شہری دفاع، یمن پریس ایجنسی