یمن اردو: عمان کے ساحل کے قریب ایک تیل بردار جہاز پر حملہ ہوا ہے۔ لبنانی ٹی وی المیادین کے مطابق برطانوی بحری تجارتی مرکز نے منگل کی رات بتایا کہ اسے عمان کے علاقے لیما سے چودہ بحری میل شمال مشرق میں ایک واقعے کی اطلاع ملی ہے۔ یہ علاقہ آبنائے ہرمز کے قریب ہے۔

رپورٹ کے مطابق جہاز کے حفاظتی افسر نے بتایا کہ جہاز کو دو نامعلوم گولوں سے نشانہ بنایا گیا، جو سیدھے اس کے انجن والے حصے پر جا کر لگے۔ ابھی تک کسی کے زخمی ہونے یا سمندر میں تیل پھیلنے کی کوئی خبر نہیں آئی۔ یمن پریس ایجنسی اور المسیرہ نے بھی یہ خبر شائع کی ہے۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ حملہ کس نے کیا اور جہاز کس ملک کا ہے۔

مزید پڑھیں: ہدایات نہ ماننے والے تین تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر جل اٹھے، سپاہ پاسداران انقلاب ایران

اسی رات ایرانی ٹی وی پریس ٹی وی نے بھی برطانوی بحری مرکز کے حوالے سے بتایا کہ خلیج فارس کے شمال میں سعودی عرب کے ساحلی شہر خفجی کے قریب ایک تیل بردار جہاز کو دو گولوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ دونوں خبریں ایک ہی واقعے کے بارے میں ہیں یا الگ الگ حملوں کے بارے میں۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بہت بڑھ چکی ہے اور آبنائے ہرمز بند ہے۔ ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی کہہ چکے ہیں کہ جب تک امریکہ ایران کی شرطیں پوری نہیں کرتا، آبنائے ہرمز بند رہے گی۔ یورپی کمیشن کی سربراہ کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش سے یورپ کو ایک سو ستائیس ارب یورو کا اضافی نقصان ہو چکا ہے۔

ذریعہ: المیادین، پریس ٹی وی، یمن پریس ایجنسی، المسیرہ