یمن اردو: امریکی تھنک ٹینک کارنیگی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کے بارے میں اپنا مبہم رویہ چھوڑ دینا چاہیے اور فلسطینی ریاست کے قیام کو کسی بھی معاہدے کی پیشگی شرط بنانا چاہیے۔ یہ بات ایرانی ذرائع ابلاغ نے کارنیگی فاؤنڈیشن کے ایک تجزیے کے حوالے سے بتائی ہے۔

تجزیے کے مطابق سات اکتوبر کے بعد کی صورتحال، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ، اور اسرائیل کے اقدامات پر عرب اور سعودی عوام میں بڑھتی ہوئی ناراضگی نے اسرائیل سے تعلقات کے بارے میں ریاض کا حساب کتاب بدل دیا ہے۔ اب سعودی عوام میں بھی اسرائیل سے تعلقات کی مخالفت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی جیل اہلکاروں نے قید فلسطینی کمانڈر حسن سلامہ کو نو گولیاں ماریں، ایرانی ٹی وی پریس ٹی وی

کارنیگی کے تجزیے میں زور دیا گیا ہے کہ سعودی عرب امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ملنے والے محدود موقع سے فائدہ اٹھا کر کھل کر اپنا موقف بتائے، اور فلسطینی علاقوں پر قبضے کے خاتمے اور فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف ٹھوس، وقت کے پابند اور ناقابل واپسی اقدامات کو تعلقات معمول پر لانے کی شرط قرار دے۔

واضح رہے کہ امریکہ کافی عرصے سے سعودی عرب پر اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے، جبکہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت اور فلسطینیوں کے قتل عام کے بعد خطے کے عوام میں ایسے کسی معاہدے کی سخت مخالفت پائی جاتی ہے۔

ذریعہ: تسنیم نیوز ایجنسی، کارنیگی فاؤنڈیشن