یمن اردو: ایرانی ٹی وی پریس ٹی وی کے مطابق فلسطینی مزاحمت کے بڑے رہنما اور القسام بریگیڈ کے سینئر کمانڈر حسن سلامہ کو اسرائیلی جیل اہلکاروں نے ان کی تنہائی والی کوٹھڑی کے اندر نو گولیاں ماریں، اور ان کی حالت انتہائی نازک ہے۔ یہ بات ان کی منگیتر، فلسطینی ادیبہ غفران الزامل نے پیر کے روز بتائی۔

غفران الزامل اور قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق یہ حملہ 28 ستمبر کو اسی دن ہوا جب انتہا پسند اسرائیلی وزیر ایتمار بن گویر مسلح اہلکاروں کے ساتھ گانوت جیل میں حسن سلامہ کی کوٹھڑی میں گھسا اور زنجیروں میں جکڑے قیدی سے کہا: "میں تمہیں مارنا چاہتا ہوں، میں تمہیں پھانسی دینا چاہتا ہوں۔” ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اہلکاروں نے اس دورے سے پہلے اور بعد میں حسن سلامہ کو مارا پیٹا اور پھر ان پر نو گولیاں چلائیں۔

مزید پڑھیں: جنگ بندی کے بعد بھی غزہ میں 1593 فلسطینی شہید ہو چکے، وزارت صحت غزہ

رپورٹ کے مطابق گولیاں لگنے کے بعد ان کی تصویریں تو لی گئیں، لیکن انہیں صرف درد کی عام گولیاں دے کر واپس کوٹھڑی میں بند کر دیا گیا اور کوئی مناسب علاج نہیں کیا گیا۔ 2 نومبر کو ان کے وکیل نے ان سے ملاقات کی اور بتایا کہ ان کی حالت مسلسل بگڑ رہی ہے اور وہ سخت کمزوری اور تکلیف میں ہیں۔ فلسطینی قیدیوں کے مرکز اور قیدیوں کے میڈیا دفتر نے کہا کہ ان کی تصویروں میں بھوک، تشدد اور جان بوجھ کر علاج نہ کرنے کے صاف نشان ہیں، اور ان کی جان کی پوری ذمہ داری صہیونی حکومت پر ہے۔

حسن سلامہ 1971 میں غزہ کے خان یونس پناہ گزین کیمپ میں ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جسے 1948 میں اپنے گھر سے نکالا گیا تھا۔ وہ 1996 سے قید ہیں اور انہیں 48 بار عمر قید کی سزا سنائی گئی، جو اب تک کی سخت ترین سزاؤں میں سے ایک ہے۔ یہ سزا انہیں القسام کے کمانڈر یحییٰ عیاش کی شہادت کے بعد جوابی کارروائیوں کی وجہ سے دی گئی۔ وہ تقریباً 30 سال کی قید میں سے آدھا وقت تنہائی میں گزار چکے ہیں، اور اسرائیل نے قیدیوں کے تبادلے کے ہر معاہدے میں ان کی رہائی سے انکار کیا۔

حماس اور دیگر مزاحمتی گروہوں نے فلسطینی قیدیوں کی حفاظت اور رہائی کے لیے فوری عالمی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ پریس ٹی وی کے مطابق اس وقت تقریباً دس ہزار فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں، جن میں سے بہت سے بغیر کسی الزام یا مقدمے کے قید ہیں۔

ذریعہ: پریس ٹی وی، فلسطینی قیدیوں کا مرکز، قیدیوں کا میڈیا دفتر