یمن اردو: ترجمان یمنی مسلح افواج بریگیڈیئر یحییٰ سریع نے بتایا ہے کہ سعودی جنگی طیاروں نے پچھلے 24 گھنٹوں میں یمن پر 93 فضائی حملے کیے ہیں۔ ان کے مطابق ان حملوں میں دارالحکومت صنعاء کے ساتھ ساتھ صوبہ الجوف، تعز، صعدہ، مأرب، عمران، لحج اور حجہ میں عام شہریوں کے گھروں اور جگہوں کو نشانہ بنایا گیا۔

یحییٰ سریع نے کہا کہ یہ حملے ایف 15 اور ٹائیفون طیاروں سے کیے گئے جو سعودی عرب کے خمیس مشیط اور طائف کے فوجی اڈوں سے اڑے تھے۔ ان حملوں میں بڑی تعداد میں عام شہری شہید اور زخمی ہوئے، جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ ترجمان کے مطابق اس نئی جارحیت کے آغاز سے اب تک سعودی طیارے یمن پر 4032 فضائی اور میزائل حملے کر چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: تعز میں سعودی بمباری سے خاتون سمیت دو یمنی شہید، تین بچے زخمی، وزارت صحت صنعاء

اسی دوران وزارت صحت صنعاء نے بتایا ہے کہ پچھلے 12 گھنٹوں میں صوبہ تعز کے کئی اضلاع میں سعودی بمباری سے 5 شہری شہید اور 18 زخمی ہو گئے ہیں۔ شہداء میں دو خواتین شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں چار بچے اور تین خواتین ہیں۔ وزارت کے مطابق سعودی طیاروں نے رہائشی گھروں، جوتوں کے ایک کارخانے، مسراخ ہسپتال کے قریبی علاقے اور الشمایتین کی سڑکوں اور دیہات کو نشانہ بنایا۔

منگل کی شام سعودی طیاروں نے تعز کے ضلع المعافر میں الخیامی کے علاقے میں ایک صنعتی تکنیکی ادارے کو بھی نشانہ بنایا۔ یمن کے قومی ادارہ برائے انسانی حقوق نے تعز میں عام شہریوں اور شہری ڈھانچے پر سعودی حملوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ہسپتالوں، گھروں اور عام سڑکوں کو نشانہ بنانا جنگی جرم اور بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ذریعہ: یمنی مسلح افواج، وزارت صحت صنعاء، یمن پریس ایجنسی، المسیرہ