یمن اردو: جنوبی یمن کے شہر عدن اور اس کے آس پاس بدھ کے روز متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ مسلح دھڑوں کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ یمنی خبر رساں ادارے یمن پریس ایجنسی کے مطابق یہ لڑائی امارات کے حمایت یافتہ «العمالقہ» دستوں اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ «درع الوطن» دستوں کے درمیان ہو رہی ہے۔

خبر رساں ادارے نے ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا کہ «درع الوطن» نے توپ خانے سے ایک فوجی قافلے کو نشانہ بنایا، جس میں اماراتی بکتر بند گاڑیاں شامل تھیں۔ یہ قافلہ لحج کے محاذوں سے واپس عدن میں داخل ہو رہا تھا۔ جانی نقصان کے بارے میں ابھی کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی۔

مزید پڑھیں: لحج کے محاذ پر العمالقہ کے کئی کمانڈر مارے گئے

یمن پریس ایجنسی کے مطابق یہ جھڑپیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب مغربی لحج کے محاذوں پر صنعاء کی افواج کے سامنے سعودی اتحاد کے دھڑوں کو تیزی سے پسپائی اور بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ان دھڑوں کے درمیان ایک دوسرے پر غداری کے الزامات لگ رہے ہیں، اور ادارے کے مطابق سعودی عرب امارات کے حمایت یافتہ دستوں کو کمزور کر کے توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسی دوران امارات کے مقرر کردہ اور تحلیل شدہ «عبوری کونسل» کے سربراہ عیدروس الزبیدی اپنی کونسل میں بڑی تبدیلیاں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ سعودی دباؤ سے اپنے دھڑے کو بچا سکیں۔ الزبیدی کے خارجہ امور کے نمائندے عمرو البیض نے بھی مانا ہے کہ فوجی صورتحال بہت خطرناک ہے اور باقی محاذوں کا گرنا اب صرف وقت کی بات ہے۔ ادارے کے مطابق ابوظہبی اب سیاسی راستے تلاش کر رہا ہے تاکہ اپنے حمایت یافتہ دھڑوں کو مکمل شکست سے بچا سکے۔

یاد رہے کہ پچھلے دو مہینوں میں صنعاء کی افواج نے لحج، الجوف اور دوسرے محاذوں پر بڑا علاقہ آزاد کرایا ہے، جبکہ سعودی عرب یمن پر روزانہ درجنوں فضائی حملے کر رہا ہے۔

ذریعہ: یمن پریس ایجنسی