یمن اردو: یمن پریس ایجنسی کے مطابق جنوبی صوبے الضالع میں سعودی حمایت یافتہ جتھوں کے ایک فوجی کیمپ میں بدھ کو ایک پراسرار دھماکہ ہوا جس میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 63 نئے بھرتی ہونے والے اہلکار ہلاک یا زخمی ہو گئے۔ ان میں 13 ہلاک اور تقریباً 50 زخمی ہیں۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ دھماکہ الجمیمہ نامی کیمپ میں ہوا، جہاں سعودی حمایت یافتہ دھڑوں کے سربراہوں نے پچھلے دنوں سینکڑوں نوجوانوں کو جمع کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق دھماکہ سیدھا بھرتی ہونے والوں کے اجتماع پر ہوا۔ دھماکے کی وجہ ابھی تک سامنے نہیں آئی اور کسی نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

مزید پڑھیں: عدن میں سعودی اور اماراتی حمایت یافتہ دھڑوں کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں، یمنی خبر رساں ادارہ

جنوبی یمن کے صحافی صلاح بن لغبر نے ایکس پر لکھا کہ یہ تربیتی کیمپ چند ہفتے پہلے اصلاح پارٹی سے وابستہ شیخ عبدالباسط الدعام نے کھولا تھا۔ ان کے مطابق الدعام نے نوجوانوں کو جمع کرنے اور بھرتی کرنے کے بدلے سعودی "خصوصی کمیٹی” سے بھاری رقمیں لیں۔ بن لغبر نے اسے "روحوں کی تجارت” کہا اور الزام لگایا کہ سعودی کمیٹی جنوبی نوجوانوں کو موت کی بھٹی میں جھونک رہی ہے جبکہ بیچ کے لوگ پیسہ آپس میں بانٹ رہے ہیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب سعودی عرب یمن پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے اور جنوبی یمن میں اپنے حمایت یافتہ جتھوں کو نئے سرے سے جمع کر رہا ہے، جبکہ عدن میں سعودی اور اماراتی حمایت یافتہ دھڑوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہو رہی ہیں۔

ذریعہ: یمن پریس ایجنسی