یمن اردو: شمالی یمن کے صوبے صعدہ پر سعودی بمباری نے ایک اور خاندان کو خون میں نہلا دیا۔ ضلع سحار میں شہری علی القحم کے گھر پر سعودی دشمن کی گولہ باری سے شہداء کی تعداد اتوار کو بڑھ کر 10 ہو گئی جبکہ 23 افراد زخمی ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ امدادی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔

المسیرہ کے مطابق شہداء میں پانچ بچے اور تین خواتین شامل ہیں۔ حملہ براہِ راست اس گھر پر کیا گیا جس میں خاندان موجود تھا، اور گھر کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا۔ ابتدائی رپورٹس میں نو شہادتیں اور 17 زخمی بتائے گئے تھے، تاہم ملبہ ہٹانے کے ساتھ ساتھ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد بڑھتی گئی۔

مزید پڑھیں: 24 گھنٹوں میں 110 حملے، سعودی جارحیت بے لگام

یمنی وزارتِ صحت نے بعد ازاں اعلان کیا کہ سحار میں گھر پر سعودی دشمن کے حملے میں شہداء اور زخمیوں کی مجموعی تعداد 33 تک پہنچ گئی ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی سبا کے حوالے سے پریس ٹی وی نے بتایا کہ نشانہ بننے والا گھر ضلع سحار کے علاقے الطویلہ میں واقع تھا۔

جائے وقوعہ کی فوٹیج میں وسیع تباہی دکھائی دیتی ہے، جہاں مقامی باشندے اور امدادی کارکن ملبے تلے زندہ بچ جانے والوں اور لاپتہ افراد کو تلاش کرتے رہے۔ حتمی تعداد ابھی واضح نہیں کیونکہ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

یہ جرم صعدہ اور دیگر یمنی صوبوں میں شہری گھروں اور رہائشی علاقوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے سلسلے کی کڑی ہے۔ یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع کے مطابق اس سے قبل 24 گھنٹوں میں سعودی جنگی طیاروں نے دارالحکومت صنعاء اور تعز، اب، لحج، صعدہ اور عمران پر 53 فضائی حملے کیے، جبکہ صعدہ کے اضلاع رازح اور شدا کے آبادی والے علاقے بھی فضائی حملوں اور توپ خانے کی زد میں رہے۔

رہائشی علاقوں پر مسلسل بمباری نے یمن میں شہری ہلاکتوں اور گھروں کی تباہی کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے، اور عام یمنی شہری، خصوصاً خواتین اور بچے، اس جارحیت کی سب سے بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔

ماخذ: المسیرہ، پریس ٹی وی