یمن اردو: یمنی فضائی دفاع نے سعودی جارحیت کو چند گھنٹوں میں دوسرا بڑا دھچکا پہنچا دیا۔ یمنی مسلح افواج نے اتوار کو صوبہ حجہ کی فضا میں معاندانہ کارروائیاں کرنے والا سعودی دشمن کا ترک ساختہ مسلح جاسوس ڈرون «کرایل» مار گرایا، جبکہ اس سے محض چند گھنٹے قبل نجران کے قریب ایک سعودی اپاچی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے مختصر بیان میں کہا: «اللہ کے فضل اور مدد سے ہماری مسلح افواج سعودی دشمن کے کرایل قسم کے مسلح جاسوس طیارے کو مار گرانے میں کامیاب ہوئیں، جو صوبہ حجہ کی فضا میں معاندانہ کارروائیاں کر رہا تھا۔» ان کے مطابق ڈرون کو «مناسب ہتھیار» سے نشانہ بنایا گیا۔

مزید پڑھیں: شہادت سے قبل، السنوار کے نام خط منظرِ عام پر

بریگیڈیئر جنرل سریع نے وضاحت کی کہ حالیہ کشیدگی کے آغاز سے یہ اس قسم کا چوتھا اور یمنی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد سے ساتواں طیارہ ہے جسے مار گرایا گیا ہے۔

اس سے قبل یمنی افواج نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے نجران کے قریب سعودی اپاچی ہیلی کاپٹر کو اس وقت مار گرایا جب وہ سرحد پر یمنی فوجی ٹھکانوں کے خلاف معاندانہ کارروائیاں کر رہا تھا۔ ترجمان کے مطابق ہیلی کاپٹر کو بھی مناسب ہتھیار سے گرایا گیا۔ یمنی افواج کا کہنا ہے کہ تازہ سعودی کشیدگی کے بعد سے وہ درجنوں ڈرونز کے علاوہ ایک ایف-15 اور ایک ٹائیفون لڑاکا طیارہ بھی مار گرا چکی ہیں۔

المسیرہ کے مطابق چند گھنٹوں کے اندر کرایل ڈرون اور اپاچی ہیلی کاپٹر کا گرایا جانا یمنی فضائی دفاع کی نمایاں کامیابی اور سعودی فضائی طاقت کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ اپاچی دنیا کے جدید ترین حملہ آور ہیلی کاپٹروں میں شمار ہوتا ہے جسے سعودی فوج وسیع پیمانے پر استعمال کرتی ہے، جبکہ کرایل ترکی کا تیار کردہ ٹیکٹیکل جاسوسی و نگرانی ڈرون ہے۔

یہ کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ یمنی فضائی دفاعی نیٹ ورک تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور دشمن کی فضائی نقل و حرکت کا دائرہ تنگ ہو رہا ہے۔ یمن اس سے قبل متعدد سعودی اور امریکی ڈرونز کے ساتھ ساتھ ٹائیفون اور پیناویا ٹورنیڈو جیسے لڑاکا طیارے بھی مار گرا چکا ہے۔

ماخذ: المسیرہ