یمن اردو: امریکی تھنک ٹینک «اسٹمسن سینٹر» نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ سعودی فوجی برتری اور جدید مغربی ہتھیار انصار اللہ یمن کو شکست دینے میں ناکام رہے ہیں۔ کرسٹین الیگزینڈر کی اس رپورٹ میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر انصار اللہ کے میزائل اور ڈرون حملوں کا جائزہ لیا گیا ہے، اور بتایا گیا ہے کہ کہیں کم وسائل رکھنے والی یمنی تحریک نے جدید ترین مغربی اسلحے سے لیس سعودی عرب پر بھاری قیمت مسلط کر دی ہے۔

پیٹریاٹ اور تھاڈ بھی بے بس

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے وسیع رقبے اور انصار اللہ کے حملوں کے تنوع، یعنی نچلی پرواز والے کروز میزائل، ریڈار سے بچ نکلنے والے ڈرون اور بیلسٹک میزائل، نے پیٹریاٹ اور تھاڈ دفاعی نظاموں کے لیے سو فیصد حملے روکنا ناممکن بنا دیا ہے۔ سستے ڈرونز کے مقابلے میں کئی ملین ڈالر کے انٹرسیپٹر میزائل داغنے سے سعودی دفاع شدید مالی نقصان کا شکار ہے۔

مزید پڑھیں: چند گھنٹوں میں دو شکار، یمنی فضائی دفاع کا کمال

اسٹمسن کے مطابق ان حملوں کا اصل ہدف سعودی بادشاہت کی وہ تصویر ہے جو اسے سرمایہ کاری اور سیاحت کے لیے ایک مستحکم ملک کے طور پر پیش کرتی ہے۔ بین الاقوامی پروازوں کی منسوخی اور ریاض کی تجارتی کانفرنسوں سے مغربی منتظمین کے نکل جانے نے ان ضربوں کا اثر مادی نقصان سے کہیں آگے پہنچا دیا ہے۔

منظم تحریک اور خودمختار فیصلے

رپورٹ تسلیم کرتی ہے کہ 2014 کے بعد انصار اللہ ایک مقامی گروہ سے ایک مستحکم حکومتی ڈھانچے میں بدل چکی ہے، جس کی بنیاد تنظیمی نظم و ضبط، قبائلی نیٹ ورک اور استعمار مخالف اور حمایتِ فلسطین کے نظریے پر عوامی تحریک ہے۔ رپورٹ میں ایران کی فنی اور مشاورتی مدد کا ذکر ہے، لیکن ساتھ یہ بھی مانا گیا ہے کہ انصار اللہ اپنے فیصلے اور میدانی ترجیحات خود طے کرتی ہے۔

دوسری جانب سعودی اتحاد اندرونی انتشار کا شکار ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریاض نواز حکومت کی فورسز، اصلاح پارٹی، طارق صالح کی فورسز، العمالقہ بریگیڈز اور جنوبی علیحدگی پسندوں کے درمیان نہ مشترکہ کمان ہے نہ مشترکہ سیاسی مقصد، اور زمینی فوج کے بغیر سعودی فضائیہ کوئی علاقہ اپنے قبضے میں نہیں رکھ سکتی۔ ترکی اور پاکستان صرف دفاعی کردار چاہتے ہیں اور واشنگٹن نئی جنگ سے گریزاں ہے۔ اسٹمسن کا نتیجہ یہ ہے کہ کوئی بین الاقوامی اتحاد یمن میں نہ ختم ہونے والی جنگ کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں، اور انصار اللہ کو یمن کی سیاست کا مستقل حصہ تسلیم کر کے مذاکرات کی میز پر لوٹنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

ماخذ: اسٹمسن سینٹر (بحوالہ مطالعاتِ خلیج فارس)