یمن اردو: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا "ویژن 2030” اب یمنی میزائلوں کے سائے میں ہے۔ برطانوی اخبار گارڈین نے 17 اکتوبر کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ یمن کے ساتھ تنازع نے سعودی عرب کو کھیلوں کا عالمی مرکز بنانے کی کوششوں پر سایہ ڈال دیا ہے اور "سعودی اسپورٹس کا بڑا منصوبہ رکتا جا رہا ہے”۔ اخبار کے مطابق ریاض میں النصر اور ازبک کلب نفتچی فرغانہ کے درمیان ایشین چیمپئنز لیگ ایلیٹ کا میچ کک آف سے صرف 15 منٹ پہلے جاری ہونے والی سکیورٹی وارننگ کے باعث تاخیر سے شروع ہوا، کیونکہ یمن سے میزائل حملے کا خطرہ تھا۔

گارڈین کے مطابق ایشین ٹور نے اگلے ماہ ہونے والا سعودی انٹرنیشنل گالف ٹورنامنٹ غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا ہے، ریاض میں نومبر کی سائیکلنگ اربن ورلڈ چیمپئن شپ منسوخ ہو چکی ہے، فیفا ای اسپورٹس ورلڈ کپ ملتوی ہو گیا ہے اور سکس کنگز سلیم ٹینس ایونٹ دسمبر کے آخر تک ٹال دیا گیا ہے۔ 2029 کے ایشین ونٹر گیمز سعودی عرب سے قازقستان منتقل ہو چکے ہیں، اور اطلاعات کے مطابق 2034 فیفا ورلڈ کپ کے لیے مجوزہ پانچ نئے اسٹیڈیم شاید تعمیر نہ ہو سکیں، جن میں نیوم کا وہ اسٹیڈیم بھی شامل ہے جسے 350 میٹر کی بلندی پر بنایا جانا تھا۔ اخبار نے یہ بھی لکھا کہ لیو گالف منصوبے سے سعودی خودمختار فنڈ (پی آئی ایف) کو مبینہ طور پر 6 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

مزید پڑھیں: یمنی میزائلوں سے ریاض لرز اٹھا، عالمی سرمایہ کاری کانفرنس 2027 تک ملتوی

المسیرہ کی رپورٹ کے مطابق فضائی شعبہ بھی شدید متاثر ہے۔ بھارت کی اکاسا ایئر نے ریاض اور جدہ کے لیے پروازوں کی معطلی میں توسیع کر دی ہے، جبکہ اتحاد، امارات، فلائی دبئی، قطر ایئرویز، ایئر فرانس، برٹش ایئرویز، لفتھانزا، کیتھے پیسیفک اور ڈیلٹا سمیت متعدد ایئرلائنز نے سعودی شہروں کے لیے پروازیں منسوخ یا معطل کی ہیں۔ کیتھے پیسیفک نے ریاض کی پروازیں 31 جنوری 2027 تک معطل کر دی ہیں اور ڈیلٹا نے اٹلانٹا-ریاض سروس کا آغاز مارچ 2027 تک مؤخر کر دیا ہے۔

اسرائیلی اقتصادی ویب سائٹ بزپورٹل کے حوالے سے المسیرہ نے بتایا کہ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کھڑے طیاروں کی تعداد 134 سے گر کر 38 رہ گئی، یعنی تقریباً 72 فیصد کمی، اور وہاں سے نکالے گئے طیاروں کی مالیت 4 ارب ڈالر سے زائد ہے۔

گارڈین نے یاد دلایا کہ پی آئی ایف اور آرامکو کے سربراہ یاسر الرمیان خود کہہ چکے ہیں کہ "ہمیں تیل کی بیماری لاحق ہے” اور سعودی عرب صرف تیل پر انحصار نہیں کر سکتا۔ مگر اب یمنی میزائلوں نے تنوع کے اسی منصوبے کی بنیاد، یعنی سلامتی کے تاثر، کو ہلا دیا ہے۔ اخبار سے گفتگو میں ماہر کرسٹوفر ڈیوڈسن نے خبردار کیا: "اگر جنگ حکومت کی معاشی صلاحیت، یعنی روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت، کو متاثر کرتی ہے تو بے چینی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔” یمن پر برسوں کی جارحیت اور محاصرے کا خمیازہ اب ریاض کی اپنی معیشت بھگت رہی ہے۔

ماخذ: دی گارڈین، المسیرہ