یمن اردو: بحیرۂ احمر کے دہانے پر واقع اسٹریٹجک آبنائے باب المندب کی طرف سعودی حمایت یافتہ فورسز کی ایک اور یلغار بھاری جانی نقصان کے ساتھ ناکام ہو گئی۔ یمنی نیوز ویب سائٹ "الخبر الیمنی” کے مطابق اتوار 18 اکتوبر کو باب المندب کی طرف پیش قدمی کی کوشش کے دوران العمالقہ فورسز کی تیسری ڈویژن کے 32 اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے۔ "رادار 360” پلیٹ فارم کی جاری کردہ فہرست میں 19 ہلاک اور 13 زخمیوں کے نام درج ہیں۔
یہ نقصان ایسے وقت میں ہوا ہے جب سعودی میڈیا مسلسل یہ دعوے کر رہا ہے کہ باب المندب کے اطراف کی پہاڑیاں اس کی حمایت یافتہ فورسز کے قبضے میں ہیں۔ الخبر الیمنی کے مطابق سعودی چینل "العربیہ” نے اتوار کو ایک ویڈیو نشر کی جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ لحج کے ضلع المضاربہ کے اسٹریٹجک کہبوب پہاڑوں میں فلمائی گئی ہے اور یہ علاقہ اب بھی سعودی حمایت یافتہ "درع الوطن” فورسز کے کنٹرول میں ہے۔ تاہم فوجی تجزیہ کار علی النسی نے نقشوں کی مدد سے ثابت کیا کہ ویڈیو کہبوب پہاڑوں سے 9 کلومیٹر سے زیادہ دور جنوب مغرب میں بنائی گئی تھی۔
مزید پڑھیں: معسکر العلم میں درجنوں ہلاک، یمنی میزائلوں کا کاری وار
سعودی کیمپ کی ناکامی کا اعتراف خود اس کے اپنے افسران بھی کر رہے ہیں۔ چینی خبر رساں ادارے شنہوا سے گفتگو میں سعودی حمایت یافتہ حکومت کے ایک فوجی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ العمالقہ اور درع الوطن کے دستوں نے کئی سمتوں سے پیش قدمی کی، مگر "یہ اس علاقے میں ہماری دیکھی ہوئی شدید ترین لڑائیوں میں سے ہے، حوثی مضبوط مورچوں میں جمے ہوئے ہیں۔” افسر کے مطابق وسیع بارودی سرنگوں نے پیش قدمی کو مشکل بنا دیا اور صنعاء کی فورسز نے فائبر آپٹک سے چلنے والے "شواظ” ڈرون بھی استعمال کیے۔ شنہوا کے مطابق کسی نمایاں علاقائی کامیابی کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
یاد رہے کہ ستمبر میں یمنی مسلح افواج نے برق رفتار کارروائی میں مغربی ساحل پر کنٹرول حاصل کیا تھا، جس کے بعد سعودی اتحاد نے "فجر الیمن” کے نام سے جوابی آپریشن شروع کیا۔ 9 اکتوبر کو یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے اعلان کیا تھا کہ لحج کی جانب سے باب المندب کی طرف بڑھنے والی سعودی کمک کو چند گھنٹوں میں دو بار پسپا کیا گیا اور 22 سے زائد بکتر بند گاڑیاں تباہ ہوئیں۔ فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی سے بات کرنے والے حکومتی ذرائع نے بھی 10 اکتوبر کو تسلیم کیا تھا کہ آبنائے کے وسط میں واقع جزیرہ میون (پریم) صنعاء کی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔
باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے اور نہر سویز کی طرف جانے والی عالمی تجارت کی شہ رگ ہے۔ صنعاء حکومت نے 20 جولائی کو تقریباً 12 سالہ محاصرے کے جواب میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس آبنائے پر یمنی کنٹرول برقرار رہنے کا مطلب یہ ہے کہ ریاض اور اس کے سرپرست یمن کا محاصرہ جاری رکھ کر خود اس اہم بحری گزرگاہ پر بے فکری کی امید نہیں رکھ سکتے۔
ماخذ: الخبر الیمنی، شنہوا، سبا نیوز ایجنسی، پریس ٹی وی، فرانس 24 (اے ایف پی)


