یمن اردو: یمنی مسلح افواج نے سعودی جارحیت کے جواب میں ایک اور کاری وار کرتے ہوئے معسکر العلم میں سعودی دشمن کے اجتماعات کو نشانہ بنایا ہے۔ یمنی خبر رساں ایجنسی سبا سے گفتگو میں ایک فوجی ذریعے نے تصدیق کی کہ اللہ کی مدد سے معسکر العلم میں سعودی دشمن کی تحشیدات کو نشانہ بنایا گیا، جس میں دشمن کے درجنوں اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔
دشمن کے اپنے حلقے بھی اس ضرب کی شدت تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ چینی خبر رساں ایجنسی شنہوا کی رپورٹ کے مطابق سعودی حمایت یافتہ حکومت کے ایک مقامی فوجی عہدیدار اور ایک طبی ذریعے نے بتایا کہ تین میزائل صوبہ شبوہ کے ضلع جردان میں صوبائی دارالحکومت عتق کے قریب واقع العلم فوجی اڈے کے تربیتی کیمپ پر گرے، جن میں کم از کم 25 اہلکار ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوئے۔ طبی ذریعے کے مطابق یہ ابتدائی اعداد و شمار ہیں جن میں اضافے کا امکان ہے، جبکہ کیمپ سے نکالی گئی کئی لاشیں بری طرح جھلس چکی تھیں۔ شنہوا کے مطابق العلم ایک بڑی فوجی تنصیب ہے جو سعودی اتحاد کی حمایت یافتہ فورسز کے زیر استعمال ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی فضا غیر محفوظ ہے، یمنی مسلح افواج کا دوٹوک انتباہ
یہ کارروائی ایسے وقت ہوئی ہے جب انصار اللہ کے سیاسی بیورو کے رکن حزام الاسد نے سعودی عرب کو خبردار کیا ہے کہ ریاض نے کشیدگی بڑھائی تو یمنی فوج کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہوگا اور سعودی مملکت کے سرکاری ادارے بھی جائز اہداف ہوں گے۔ پریس ٹی وی کے مطابق انہوں نے کہا کہ حالیہ سعودی مظالم دراصل کرائے کے فوجیوں کی ذلت آمیز شکستوں اور سرحدی و مقبوضہ علاقوں میں یمنی مسلح افواج کی کاری ضربوں کا ردعمل ہیں، اور یمن "کشیدگی کے بدلے کشیدگی” اور "محاصرے کے بدلے محاصرہ” کے اصول پر جواب دے گا۔
یہ یمنی جواب اس سعودی بمباری کے پس منظر میں آیا ہے جو بے لگام ہو چکی ہے۔ یمنی مسلح افواج کے ترجمان کے مطابق صرف 24 گھنٹوں میں سعودی دشمن نے صنعاء اور متعدد صوبوں پر 110 فضائی اور میزائل حملے کیے، جبکہ یمنی وزارت صحت کے ترجمان انیس الاصبحی کے مطابق کشیدگی کے آغاز سے 18 اکتوبر تک سعودی جارحیت میں 536 افراد شہید یا زخمی ہو چکے ہیں۔ پیغام بالکل واضح ہے: یمنی گھروں پر بم برسانے والوں کے کیمپ اور اجتماعات اب یمنی میزائلوں کی زد میں ہیں۔
ماخذ: سبا نیوز ایجنسی، پریس ٹی وی، شنہوا، المسیرہ


