یمن اردو: سعودی جارحیت کے جواب میں یمنی مسلح افواج نے بڑا اور دوٹوک انتباہ جاری کر دیا ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی فضا کے سوا پوری سعودی مملکت کی فضا اب غیر محفوظ ہے۔ یمنی خبر رساں ایجنسی سبا سے گفتگو میں ایک فوجی ذریعے نے واضح الفاظ میں کہا کہ جسے خبردار کرنا تھا، اسے خبردار کر دیا گیا ہے۔

یمنی مسلح افواج نے سعودی تیل تنصیبات پر کام کرنے والے ملازمین، مزدوروں اور شہریوں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ ان تنصیبات سے دور رہیں۔ فوجی ذریعے نے سعودی آرامکو کے حصص داروں کو مشورہ دیا کہ نقصان سے بچنے کے لیے وقت گزرنے سے پہلے اپنے حصص نکال لیں۔

مزید پڑھیں: 24 گھنٹوں میں یمن پر 110 حملے، سعودی جارحیت بے لگام

یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یمن پر سعودی بمباری بے لگام ہو چکی ہے۔ یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع کے مطابق صرف 24 گھنٹوں میں خمیس مشیط اور طائف کے فضائی اڈوں سے اڑنے والے سعودی ایف-15 اور ٹائفون طیاروں نے دارالحکومت صنعاء سمیت الحدیدہ، تعز، عمران، حجہ، صعدہ، الجوف، الضالع اور مأرب میں شہری مقامات پر 110 فضائی اور میزائل حملے کیے، جن میں 30 سے زائد افراد شہید اور زخمی ہوئے اور ان میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔ ان کے مطابق کشیدگی کے آغاز سے اب تک سعودی جارح اتحاد کے فضائی اور میزائل حملوں کی تعداد 2652 تک پہنچ چکی ہے۔

یمنی وزارت صحت کے مطابق صعدہ کے ضلع سحار میں ایک شہری گھر پر سعودی بمباری میں شہداء اور زخمیوں کی تعداد 33 ہو گئی ہے۔ ایسے میں صنعاء کا پیغام بالکل واضح ہے: یمنی گھروں پر بم برسانے والی سعودی مملکت اب اپنی فضا اور اپنی تیل کی معیشت کو محفوظ نہ سمجھے، اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کو اس انتباہ سے الگ رکھ کر یمن نے حرمین شریفین کے احترام کو بھی دوٹوک انداز میں واضح کر دیا ہے۔

ماخذ: سبا نیوز ایجنسی، یمنی پریس، المنار