یمن اردو: جس سرزمین پر آج دنیا کی طاقتور ترین فوجیں اور ان کے اتحادی آگ برسا رہے ہیں، اسی یمن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایمان اور حکمت کا گہوارہ قرار دیا تھا۔ حدیث کی معتبر ترین کتابوں، صحیح بخاری اور صحیح مسلم، میں یمن اور اہل یمن کی فضیلت پر جو روایات محفوظ ہیں، وہ اس قوم کی شان بیان کرتی ہیں جو آج غزہ کے مظلوموں کی پشت پر کھڑی ہے۔ یہ خصوصی رپورٹ انہی بشارتوں کا مجموعہ ہے۔
1۔ ایمان یمانی، حکمت یمانی
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ، هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً وَأَلْيَنُ قُلُوبًا، الإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ»
"تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں، ان کے دل سب سے زیادہ نرم اور رقیق ہیں۔ ایمان یمن والوں کا ہے اور حکمت بھی یمن والوں کی ہے۔” (صحیح بخاری، حدیث 4388؛ صحیح مسلم، حدیث 52)
مزید پڑھیں: سعودی اتحاد مسلمانوں کو لڑانے کے لیے ہے، مفتی اعظم لیبیا شیخ صادق الغریانی
صحیح بخاری کی ایک اور روایت میں اسی کے ساتھ یہ الفاظ بھی ہیں: «الإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْفِقْهُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ»، یعنی "ایمان، فقہ اور حکمت، تینوں یمانی ہیں۔” (صحیح بخاری، حدیث 3499)
2۔ یمن کے لیے رسول اللہ ﷺ کی دعا
نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأْمِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا»، "اے اللہ! ہمارے شام میں برکت دے، اے اللہ! ہمارے یمن میں برکت دے۔” لوگوں نے عرض کیا: اور ہمارے نجد میں؟ آپ ﷺ نے پھر یمن اور شام کے لیے دعا دہرائی اور نجد کے بارے میں فرمایا: «هُنَاكَ الزَّلاَزِلُ وَالْفِتَنُ، وَبِهَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ»، "وہاں زلزلے اور فتنے ہوں گے، اور وہیں سے شیطان کا سینگ نکلے گا۔” (صحیح بخاری، حدیث 1037 اور 7094)
رسول اللہ ﷺ نے یمن کو دعا میں بار بار یاد فرمایا، جبکہ نجد کے بارے میں فتنوں کی خبر دی۔ آج وہی یمن نجد سے اٹھنے والی جنگ اور محاصرے کا سامنا کر رہا ہے۔
3۔ رحمٰن کی خوشبو یمن کی طرف سے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِنِّي لَأَجِدُ نَفَسَ الرَّحْمَنِ مِنْ قِبَلِ الْيَمَنِ»، "میں یمن کی جانب سے رحمٰن کی خوشبو (رحمت کی ہوا) پاتا ہوں۔” (مسند احمد بن حنبل، مسند ابی ہریرہ)
4۔ وہ قوم جس سے اللہ محبت کرتا ہے
قرآن کریم میں ارشاد ہے: «فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ» (سورۃ المائدہ، آیت 54)۔ مفسرین نے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے یمنی صحابی حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: «هُمْ قَوْمُ هَذَا»، "وہ اس شخص کی قوم ہیں۔” (المستدرک للحاکم، کتاب التفسیر؛ تفسیر طبری، ذیل سورۃ المائدہ 54)
مومنوں کے لیے نرم، کافروں کے مقابلے میں سخت، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنے والے: یہ وہ صفات ہیں جو قرآن نے اس قوم کے لیے بیان کیں۔
5۔ عدن ابین سے بارہ ہزار مددگار
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «يَخْرُجُ مِنْ عَدَنِ أَبْيَنَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا، يَنْصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، هُمْ خَيْرُ مَنْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ»، "عدن ابین سے بارہ ہزار افراد نکلیں گے جو اللہ اور اس کے رسول کی مدد کریں گے، وہ میرے اور ان کے درمیان کے لوگوں میں سب سے بہتر ہوں گے۔” (مسند احمد بن حنبل، مسند عبداللہ بن عباس)
6۔ حوضِ کوثر پر اہل یمن کا مقام
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِنِّي لَبِعُقْرِ حَوْضِي أَذُودُ النَّاسَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ، أَضْرِبُ بِعَصَايَ حَتَّى يَرْفَضَّ عَلَيْهِمْ»، "میں اپنے حوض کے کنارے اہل یمن کے لیے لوگوں کو ہٹاؤں گا، اپنی لاٹھی سے راستہ بناؤں گا یہاں تک کہ حوض کا پانی ان پر بہہ نکلے۔” (صحیح مسلم، حدیث 2301)
قیامت کے دن خود رسول اللہ ﷺ اہل یمن کے لیے حوض پر راستہ بنائیں گے۔ اس سے بڑا اعزاز کسی قوم کے لیے کیا ہو سکتا ہے؟
7۔ اویس قرنیؒ، یمن کا وہ عاشق جس سے دعا کی تاکید ہوئی
رسول اللہ ﷺ نے یمن کے حضرت اویس قرنیؒ کا ذکر کرتے ہوئے صحابہ سے فرمایا کہ وہ اپنی ماں کے فرمانبردار ہیں، اگر اللہ پر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم پوری کر دے، «فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ فَافْعَلْ»، "اگر تم ان سے اپنے لیے دعائے مغفرت کروا سکو تو ضرور کروانا۔” (صحیح مسلم، حدیث 2542)
8۔ ہمدان پر سلام، امیر المومنین علیؑ کے ہاتھوں یمن کا اسلام
رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ابن ابی طالبؑ کو یمن بھیجا (صحیح بخاری، حدیث 4349)۔ روایات کے مطابق یمن کے قبیلہ ہمدان نے ایک ہی دن میں حضرت علیؑ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ جب یہ خبر رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ سجدۂ شکر میں گر گئے اور فرمایا: «السَّلَامُ عَلَى هَمْدَانَ، السَّلَامُ عَلَى هَمْدَانَ» (السنن الکبریٰ للبیہقی؛ تاریخ طبری)۔ یہی ہمدان آج صعدہ اور صنعاء کے پہاڑوں میں آباد ہیں۔
یمن آج بھی اسی راستے پر
رسول اللہ ﷺ کی ان بشارتوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو آج یمن کا موقف صاف نظر آتا ہے۔ جب بیشتر عرب حکمران خاموش ہیں یا صہیونی دشمن سے ہاتھ ملا چکے ہیں، تو محاصرے، بمباری اور بھوک کے باوجود یہی "نرم دل” اور "اہل ایمان” قوم فلسطین کے مظلوموں کی حمایت میں کھڑی ہے اور "کسی ملامت کرنے والے کی ملامت” سے نہیں ڈرتی۔ جو لوگ اہل یمن کے خلاف فتوے دیتے اور ان پر بم برسانے والوں کا ساتھ دیتے ہیں، انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ اس قوم کے خلاف کھڑے ہیں جس کے لیے رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی اور جس کے ایمان کی گواہی دی۔
حوالہ جات
- صحیح البخاری، امام محمد بن اسماعیل بخاری: احادیث 1037، 3499، 4349، 4388، 7094
- صحیح مسلم، امام مسلم بن حجاج: احادیث 52، 2301، 2542
- مسند احمد بن حنبل: مسند ابی ہریرہ، مسند عبداللہ بن عباس
- المستدرک علی الصحیحین، امام حاکم نیشاپوری: کتاب التفسیر، سورۃ المائدہ
- جامع البیان (تفسیر طبری)، امام ابن جریر طبری: سورۃ المائدہ، آیت 54
- السنن الکبریٰ، امام بیہقی؛ تاریخ الرسل والملوک، امام طبری: حضرت علیؑ کا سفرِ یمن
- قرآن کریم: سورۃ المائدہ، آیت 54
ماخذ: یمن اردو خصوصی رپورٹ


