یمن اردو: یمنی مسلح افواج کی مسلسل میزائل اور ڈرون کارروائیوں نے سعودی عرب کو اپنی سب سے بڑی سالانہ سرمایہ کاری کانفرنس "فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو” ملتوی کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جسے دنیا "صحرا کا ڈیووس” کہتی ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ کانفرنس 26 سے 29 اکتوبر تک ریاض میں ہونا تھی، مگر اب اسے 2027 تک ملتوی کر دیا گیا ہے اور منتظمین نے کہا ہے کہ نئی تاریخوں کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

سی این بی سی کے مطابق یہ فیصلہ 10 اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر یمنی حملے کے بعد سامنے آیا، جس میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے، اور اس کے بعد سے سعودی عرب پر میزائلوں اور ڈرونز کی لہریں مسلسل جاری ہیں۔ برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق ہوائی اڈے پر حملے کے ایک دن بعد ایک اور کارروائی میں آرامکو کے ہیڈکوارٹر کا ایک حصہ بھی آگ کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔

مزید پڑھیں: سعودی فضا غیر محفوظ ہے، یمنی مسلح افواج کا دوٹوک انتباہ

اس کانفرنس میں وال اسٹریٹ کے بڑے نام شریک ہونے والے تھے، جن میں جے پی مورگن چیس کے جیمی ڈائمن، گولڈمین ساکس کے ڈیوڈ سولومن، بلیک اسٹون کے اسٹیفن شوارزمین، بلیک راک کے لیری فنک اور سٹی گروپ کی جین فریزر شامل تھے۔ سی این بی سی کو بتایا گیا کہ بعض شرکا اور مقررین نے ریاض پہنچنے کے لیے پہلے بحرین جانے اور پھر وہاں سے پانچ گھنٹے سڑک کے راستے سفر کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، یعنی سعودی دارالحکومت کی فضائی راہیں اب عالمی سرمایہ کاروں کے لیے بھی محفوظ نہیں رہیں۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بھی اعتراف کیا ہے کہ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ سعودی ہوائی اڈوں اور دارالحکومت پر یمنی میزائل حملے مملکت کے معاشی عزائم کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق یہ فیصلہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی ان کوششوں پر براہ راست ضرب ہے جن کے ذریعے وہ غیر ملکی سرمایہ کھینچنا اور ریاض کو مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا کاروباری مرکز بنانا چاہتے تھے۔ یاد رہے کہ یہ کانفرنس سعودی خودمختار دولت فنڈ نے 2017 میں شروع کی تھی اور محمد بن سلمان نے پہلی ہی کانفرنس میں نیوم منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

جارحیت کی قیمت صرف ایک کانفرنس تک محدود نہیں رہی۔ منتظمین کے اعلان کے مطابق 16 سے 18 نومبر کو ہونے والی نمائش "انٹرسیک سعودی عرب” اکتوبر 2027 تک اور 19 نومبر کو ہونے والا "سعودی ریٹیل فورم” مارچ 2027 تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ یمن پر بمباری کرنے والا ریاض آج اپنی ہی سرزمین پر عالمی مہمانوں کی میزبانی سے قاصر ہے، اور یہی یمنی مزاحمت کی وہ کامیابی ہے جس کا اعتراف اب مغربی میڈیا بھی کرنے پر مجبور ہے۔

ماخذ: سی این بی سی، وال اسٹریٹ جرنل، دی انڈیپنڈنٹ