یمن اردو: امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے تقریباً آٹھ ماہ بعد روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف پیر 19 اکتوبر کو ایک سفارتی وفد کے ہمراہ تہران پہنچ گئے۔ جنگ کے آغاز کے بعد یہ ان کا پہلا دورۂ ایران ہے، جس میں ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے ساتھ ملاقات اور مشترکہ پریس کانفرنس ہوئی۔ ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق روسی وفد کی صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات طے تھی۔

پریس ٹی وی کے مطابق عراقچی نے کہا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ 28 فروری سے شروع ہونے والی امریکی-اسرائیلی فوجی جارحیت کا "براہ راست” نتیجہ ہے، جو مختلف شکلوں میں اب بھی جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا: "امریکہ اور صہیونی حکومت کی مسلط کردہ جنگ اور معاشی ناکہ بندی ہمارے خطے میں عدم تحفظ کے بنیادی اسباب ہیں۔”

مزید پڑھیں: سعودی دعویٰ مسترد، محمد عبدالسلام کا دوٹوک جواب

ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ مذاکرات میں فلسطین، لبنان اور یمن کی صورتحال بھی زیر بحث آئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ فلسطینیوں کی نسل کشی اور صہیونی حکومت کی خطے میں خطرناک توسیع پسندی کو روکا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تہران اور ماسکو دونوں امریکی یکطرفہ پالیسیوں کے مخالف ہیں اور برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم میں تعاون جاری رکھیں گے۔ عراقچی نے بحیرۂ کیسپین میں بحری جہازوں پر حملوں پر بھی شدید تشویش ظاہر کی اور افغانستان-پاکستان کشیدگی کم کرانے پر دونوں ملکوں کے مشترکہ موقف کا ذکر کیا۔

روسی وزیر خارجہ لاوروف نے کہا کہ روس نے عملاً ثابت کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے کی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے۔ ان کے مطابق ماسکو نے اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جارحیت کو جائز ٹھہرانے کی کوششوں کی اصولی مخالفت کی اور ایرانی عوام کے لیے ادویات اور خوراک سمیت انسانی امداد بھیجی۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی حالات اور بیرونی دباؤ کے باوجود دونوں ملک جامع تعاون کو بھرپور انداز میں آگے بڑھائیں گے۔

واضح رہے کہ ایران اور روس کے درمیان 20 سالہ جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ 17 جنوری 2025 کو ماسکو میں صدر ولادیمیر پوتن اور صدر مسعود پزشکیان نے دستخط کیا تھا، جس پر عملدرآمد اکتوبر 2025 میں شروع ہوا۔ عراقچی کے مطابق اس معاہدے کے بعد دوطرفہ تعلقات "نئے مرحلے” میں داخل ہو چکے ہیں۔ ایسے وقت میں جب سعودی عرب امریکی پشت پناہی سے یمن پر بمباری کر رہا ہے اور خلیجی ریاستیں تہران کے خلاف بیانات دے رہی ہیں، ماسکو کا یہ دورہ اس پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ مزاحمتی محور کو تنہا کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو رہیں۔

ماخذ: پریس ٹی وی، مہر نیوز ایجنسی