یمن اردو: بحرین کے دارالحکومت منامہ میں خلیج تعاون کونسل کی وزارتی کونسل کا 108 واں اجلاس ختم ہوا تو اس کے اعلامیے میں یمن کے لیے صرف الزامات تھے۔ ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق وزرائے خارجہ نے سعودی ٹھکانوں پر یمنی فوج کی جوابی کارروائیوں کی مذمت کی، دعویٰ کیا کہ ان سے سعودی ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، اور انصار اللہ پر اسلحے کی پابندیاں سخت کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسی اعلامیے میں ایران پر بھی الزامات لگائے گئے، مگر خطے کے امریکی اڈوں سے ایران پر ہونے والے حملوں کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔ یہ اعلامیہ پڑھ کر سوال اٹھتا ہے: کیا خلیجی وزرا کو صعدہ کے بچے نظر نہیں آئے؟

انہی دنوں یمنی وزارت صحت نے اعلان کیا تھا کہ صعدہ کے ضلع سحار میں علی القحم کے گھر پر سعودی فضائی حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 10 اور زخمیوں کی 23 ہو گئی ہے۔ مرنے والوں میں سات بچے اور ایک خاتون شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 12 بچے تشویشناک حالت میں ہیں اور 10 خواتین ہیں۔ تعز کے ضلع مقبنہ میں رہائشی محلے پر سعودی حملوں میں ایک خاتون اور ایک بچی سمیت 9 شہری جاں بحق اور 16 زخمی ہوئے۔ وزارت صحت کے مطابق 3 ستمبر سے 18 اکتوبر تک سعودی جارحیت میں 141 یمنی شہری جاں بحق اور 395 زخمی ہوئے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، اور کلسٹر بموں کا استعمال بھی ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: یمنی خاندان ملبے تلے، صعادہ پر سعودی بمباری

منامہ کے اعلامیے میں ان 536 متاثرین کے لیے ایک سطر بھی نہیں۔ یہ وہی دوہرا معیار ہے جس کی طرف یمنی وزارت خارجہ نے 17 اکتوبر کے بیان میں اشارہ کیا تھا کہ عالمی برادری کی "بہری کر دینے والی خاموشی” ریاض کو مزید جرائم کی کھلی چھوٹ دیتی ہے اور اسے ان جرائم میں شریک بناتی ہے۔ جو کونسل سعودی ہوائی اڈے پر گرنے والے میزائل پر تڑپ اٹھتی ہے مگر صعدہ کے ملبے سے نکالے گئے بچوں پر خاموش رہتی ہے، وہ امن کی نہیں، جارح کی وکیل ہے۔

یہ بھی کم اہم نہیں کہ یہ اعلامیہ منامہ سے جاری ہوا، جس نے 2020 میں اسرائیل سے تعلقات معمول پر لائے تھے۔ اور حال ہی میں صہیونی اخبار یدیعوت آحرونوت نے رپورٹ کیا کہ یمنی کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ذریعے انٹیلی جنس تعاون اور اہداف کی نشاندہی بڑھ رہی ہے، اور اخبار نے آئرن ڈوم اور ڈیوڈز سلنگ جیسے دفاعی نظاموں کی ممکنہ فراہمی کو براہ راست سعودی-اسرائیلی تعلقات کی بحالی سے جوڑا۔ جس اتحاد کی آنکھیں تل ابیب سے ملنے والی معلومات پر ہوں، اس کے بیان میں یمنی بچوں کا ذکر کیسے آ سکتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ یمن نے یہ جنگ شروع نہیں کی۔ صنعاء کے مطابق تقریباً 12 سال سے جاری محاصرے کے جواب میں ہی 20 جولائی کو سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان ہوا، اور انصار اللہ کے سیاسی بیورو کے رکن حزام الاسد کے بقول یمن کا جواب "تصعید کے بدلے تصعید” اور "محاصرے کے بدلے محاصرہ” کی مساوات پر ہے۔ خلیجی دارالحکومتوں کو اگر واقعی سلامتی چاہیے تو راستہ اسلحے کی پابندیوں کے مطالبوں سے نہیں، یمن پر بمباری اور محاصرہ ختم کرنے سے نکلتا ہے۔ جب تک یہ نہیں ہوتا، منامہ جیسے اعلامیے یمنی عوام کی نظر میں صرف ایک چیز ہیں: قاتل کی صفائی۔

ماخذ: مہر نیوز ایجنسی، المسیرہ، پریس ٹی وی (یہ تحریر یمن اردو کی ادارتی رائے ہے)