یمن اردو: سعودی جارحیت نے پیر کے روز ایک بار پھر یمن کے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا، جہاں صوبہ تعز، اِب اور صعدہ میں سعودی فضائی حملوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کی گولہ باری سے متعدد عام شہری شہید اور زخمی ہو گئے، جبکہ شہریوں کی املاک کو بھی نقصان پہنچا۔ سب سے دل خراش واقعہ تعز میں پیش آیا، جہاں سعودی حمایت یافتہ فورسز کے ایک گولے نے ایک باپ اور اس کی جوان بیٹی کی جان لے لی۔
المسیرہ کے مطابق پیر کی شام سعودی حمایت یافتہ فورسز نے صوبہ تعز کے ضلع صبر الموادم کے علاقے الحیار میں گھروں پر گولہ باری کی، جس میں ایک بزرگ شہری اور ان کی بیٹی شہید ہو گئے۔ یمنی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر انیس الاصبحی نے شہداء کی شناخت 57 سالہ محمد قاسم علی عبداللہ النقیب اور ان کی 25 سالہ بیٹی مشیرہ محمد قاسم علی عبداللہ النقیب کے طور پر کی۔ رپورٹ کے مطابق یہ حملہ تعز کے آبادی والے علاقوں پر سعودی حمایت یافتہ فورسز کی مسلسل گولہ باری کے دوران کیا گیا۔
مزید پڑھیں: 3 ستمبر سے اب تک 536 یمنی شہری نشانہ، وزارت صحت یمن
تعز ہی میں ضلع التعزیہ کے علاقے الجند پر ایک الگ سعودی فضائی حملے میں ایک بچی اور ایک نوجوان خاتون زخمی ہوئیں، جبکہ ایک اور فضائی حملے میں ضلع الشمایتین کے علاقے الزاکرہ کے مقام حبجر میں ایک رہائشی مکان کو نشانہ بنایا گیا، جس سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا اور نجی املاک تباہ ہوئیں۔ صوبہ اِب کے ضلع السیانی میں نخلان کے علاقے دراس میں ایک سڑک پر سعودی فضائی حملے میں دو شہری شہید اور ایک زخمی ہو گیا۔
شمالی صوبہ صعدہ میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کی توپ خانے سے گولہ باری میں ضلع رازح کے رہائشی دیہات میں ایک شہری زخمی ہو گیا۔ ضلع باقم کے آبادی والے دیہات پر بھی گولہ باری کی گئی، جبکہ سرحد کے قریب ضلع الظاہر کے علاقے بنی ذہل پر سعودی طیاروں نے بمباری کی۔
یہ تازہ حملے یمن کے خلاف سعودی فوجی مہم میں شدت کے دوران سامنے آئے ہیں۔ یمنی وزارت صحت کے مطابق صرف 16 سے 18 اکتوبر کے درمیان تعز، صعدہ، الجوف اور ذمار میں سعودی حملوں میں 117 افراد شہید یا زخمی ہوئے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، اور وزارت کے مطابق 18 اکتوبر تک حالیہ جارحیت میں شہید اور زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 536 تک پہنچ چکی ہے۔ آبادی والے علاقوں اور شہری ڈھانچے پر یہ حملے، خصوصاً خواتین اور بچوں کی بڑھتی ہلاکتیں، سعودی جارحیت کی بھاری انسانی قیمت کو عیاں کر رہی ہیں۔
ماخذ: المسیرہ


