یمن اردو: یمن کی قومی کمیٹی برائے امور اسیران کے سربراہ عبدالقادر المرتضیٰ نے سنگین انکشاف کیا ہے کہ عدن میں سعودی حکومت کے کرائے کے جنگجوؤں نے حالیہ لڑائیوں میں قید کیے گئے یمنی اسیران کا ایک حصہ سعودی حکومت کے ہاتھ فروخت کر دیا، جس نے انہیں پہلے المکلا اور پھر سعودی عرب منتقل کر دیا۔ یمنی خبر رساں ادارے سبا کو دیے گئے بیان میں انہوں نے کہا کہ کمیٹی کو اس بارے میں مصدقہ معلومات حاصل ہوئی ہیں۔

عبدالقادر المرتضیٰ نے اس اقدام کو اسیران کے خلاف جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس غلامی اور تابعداری کی انتہا کو بے نقاب کرتا ہے جہاں تک خود کو "الشرعیہ” یعنی قانونی حکومت کہلوانے والے پہنچ چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ واقعہ ہر یمنی پر واضح کر دیتا ہے کہ یہ کرائے کے جنگجو سعودی حکومت کے ہاتھ میں سستے آلات سے زیادہ کچھ نہیں، جو وہی کرتے ہیں جو ریاض انہیں حکم دیتا ہے، اور اسیران کے معاملے میں بھی ان کے پاس کوئی آزاد فیصلہ نہیں۔ انہوں نے تمام محاذوں پر موجود تمام یمنی اسیران کی زندگی اور سلامتی کی مکمل ذمہ داری سعودی حکومت پر عائد کی، اور بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری حرکت میں آ کر اس جرم کے حقائق سامنے لائے، سعودی حکومت پر اسیران کا انجام ظاہر کرنے کے لیے دباؤ ڈالے اور ان سے ملاقات اور ان کی سلامتی کی تصدیق کی اجازت دلوائے۔

مزید پڑھیں: باب المندب پر یلغار پھر ناکام، سعودی حمایت یافتہ العمالقہ کے 32 ہلاک و زخمی

یہ انکشاف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صنعاء میں قومی کمیٹی برائے امور اسیران نے ہفتہ 17 اکتوبر کو مغربی ساحل کے محاذ کے ان 159 اسیران کو رہا کیا جنہوں نے بغیر لڑے رضاکارانہ طور پر ہتھیار ڈال کر خود کو حوالے کیا تھا۔ 26 ستمبر نیٹ کے مطابق یہ رہائی سپریم پولیٹیکل کونسل کے صدر فیلڈ مارشل مہدی المشاط کی جانب سے 10 ستمبر 2026 کو جاری کردہ عام معافی پر عمل درآمد تھی، اور اس موقع پر منعقدہ پریس کانفرنس میں وزیر ٹرانسپورٹ و تعمیرات عامہ محمد قحیم، گورنر ابین صالح الجنیدی اور صنعاء میں بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس کے وفد کی سربراہ کرسٹین شیبولا بھی موجود تھیں۔ عبدالقادر المرتضیٰ کے مطابق یہ عام معافی کے تحت رہائی کی دوسری کھیپ تھی، اس سے پہلے 15 ستمبر کو الحدیدہ میں خود کو حوالے کرنے والے 323 اسیران کی پہلی کھیپ رہا کی گئی تھی، جبکہ تعز میں میدان میں ہونے والی متعدد کارروائیوں میں بھی درجنوں افراد کو رہا کیا گیا۔

عبدالقادر المرتضیٰ نے کہا کہ یہ رہائیاں ثابت کرتی ہیں کہ عام معافی ایک حقیقی فیصلہ ہے جس پر میدان میں عمل ہو رہا ہے، نہ کہ محض میڈیا کے لیے کیا گیا اعلان۔ انہوں نے بتایا کہ صدر کی ہدایات کے مطابق یہ معافی اب بھی نافذ ہے اور ہر اس شخص پر لاگو ہوتی ہے جو ہتھیار ڈال دے، دشمن کے کیمپ اور تحشیدات چھوڑ دے اور خود کو یمنی مسلح افواج کے حوالے کر دے، تاہم یہ ہمیشہ کے لیے برقرار نہیں رہے گی۔ ان کا کہنا تھا: "ہم ایک ہی ملک کے بیٹے ہیں اور ہم سب کا فرض وطن کی حفاظت اور دفاع ہے، نہ کہ اس دشمن کی خدمت جو اس پر قبضہ اور تسلط چاہتا ہے۔” الحقیقہ کے مطابق انہوں نے اسیران کے اہل خانہ کو یقین دلایا کہ کمیٹی تمام اسیران کی آزادی کے معاملے کو پوری توجہ سے دیکھ رہی ہے، اور صنعاء کی فورسز کے پاس فریق مخالف کے کمانڈروں اور افسروں میں سے بھی اسیران موجود ہیں جو تمام اسیران اور قیدیوں کی رہائی یقینی بنائیں گے۔

ادھر یمنی حکومت کے ترجمان ڈاکٹر عمر البخیتی نے سعودی تحشیدات میں شامل باقی ماندہ گمراہ افراد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سعودی تحشیدات کے مقامات سے دور ہو جائیں، انہیں بے مقصد آگ میں جھونکنے کی سعودی کوششوں کا جواب نہ دیں اور جب تک صدارتی عام معافی نافذ ہے اس سے فائدہ اٹھائیں۔ المسیرہ کے مطابق سپریم پولیٹیکل کونسل کے رکن عبدالعزیز صالح بن حبتور نے بھی جنوبی اور مشرقی صوبوں کے باشندوں پر زور دیا ہے کہ وہ سعودی حمایت یافتہ بھرتی اور تحشید کی مہمات کا جواب نہ دیں اور غیر ملکی ایجنڈوں کے بجائے جانوں کے تحفظ اور قومی مفاد کو ترجیح دیں۔

ماخذ: سبا نیوز ایجنسی، الثورہ نیٹ، 26 ستمبر نیٹ، الحقیقہ، المسیرہ