یمن اردو: ایک ہی دن میں یمن پر 81 سعودی فضائی و میزائل حملوں کے بعد یمنی مسلح افواج نے اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنری راس تنورہ اور ریاض میں سعودی وزارت دفاع کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع کے مطابق مشرقی صوبے میں واقع راس تنورہ ریفائنری پر داغا گیا بیلسٹک میزائل ٹھیک نشانے پر لگا اور وہاں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی، جبکہ ریاض میں وزارت دفاع کی عمارت کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔

بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے بتایا کہ دو بیلسٹک میزائلوں سے دو فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا، ایک نجران ایئرپورٹ پر اور دوسرا خمیس مشیط میں شاہ خالد ایئر بیس پر، اور دونوں کارروائیوں نے اپنے اہداف حاصل کر لیے۔ بعد ازاں ایک ڈرون حملے میں ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا جس سے ایئرپورٹ پر فضائی آمد و رفت معطل ہو گئی۔

مزید پڑھیں: جارحیت کا جواب، ریاض ایئرپورٹ اور سعودی تیل پائپ لائن پر یمنی میزائل و ڈرون حملے

یہ جوابی کارروائیاں ایسے وقت میں ہوئیں جب یمنی ترجمان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں سعودی جنگی طیاروں نے دارالحکومت صنعاء اور تعز، لحج، صعدہ، حجہ اور اِب صوبوں میں شہری تنصیبات پر 81 فضائی و میزائل حملے کیے۔ ان حملوں میں خمیس مشیط اور طائف کے اڈوں سے اڑنے والے ایف 15 اور ٹائفون طیارے استعمال ہوئے اور جیزان سے میزائل داغے گئے، جن سے عام یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے۔

زمینی محاذ پر بھی یمنی فورسز نے باب المندب کے جنوب میں سعودی تحشیدات کی پیش قدمی کی کوشش ناکام بنا دی۔ بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع کے مطابق ان تحشیدات کی نگرانی سعودی افسر بدر الحربی کر رہا تھا، حملہ آوروں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا اور ان کی کئی فوجی گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ یمنی مسلح افواج نے دھوکے میں آئے افراد کو خبردار کیا کہ وہ سعودی دشمن اور اس کے افسروں کی پکار پر لبیک نہ کہیں جو انہیں جنگ کی بھٹی میں جھونک رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق راس تنورہ سعودی عرب کی سب سے بڑی ریفائنری ہے جس کی گنجائش یومیہ 5 لاکھ 50 ہزار بیرل ہے، اور بلومبرگ نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ سعودی حکام نے راس تنورہ ٹرمینل کے قریب لگی آگ پر قابو پا لیا۔ سعودی حکام نے حملوں کی فوری تصدیق نہیں کی، تاہم سعودی سول ڈیفنس کے مطابق ریاض کی فضا میں دو بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے بعد گرنے والے ملبے سے ایک عمارت، ایک تعمیراتی مقام اور ایک گاڑی کو نقصان پہنچا۔

ماخذ: المسیرہ، 21 ستمبر نیٹ، رائٹرز