یمن اردو: مظلوم یمنی قوم پر سعودی جارحیت رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع کے مطابق سعودی دشمن نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن پر 116 فضائی حملے اور میزائل حملے کیے۔ یہ بات یمنی خبر رساں ادارے سبا کے حوالے سے صنعا کے اخبار السیاسیہ نے جمعرات کی شام شائع کی۔
چھ صوبے نشانے پر
ترجمان کے بیان کے مطابق سعودی حملوں میں صعدہ، حجہ، البیضاء، الجوف، تعز اور لحج صوبوں میں شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ یحییٰ سریع کے مطابق ان حملوں میں بڑی تعداد میں یمنی شہید اور زخمی ہوئے، اور شہداء اور زخمیوں میں بیشتر خواتین اور بچے ہیں۔
بیان کے مطابق یہ فضائی حملے ایف-15 اور ٹائفون جنگی طیاروں سے کیے گئے، جو خمیس مشیط اور طائف کے فضائی اڈوں سے اڑے، جبکہ میزائل حملے نجران سے کیے گئے۔
مزید پڑھیں: یمن کی تازہ ترین خبریں
حملوں کی کل تعداد 3596 تک جا پہنچی
یحییٰ سریع کے مطابق یمن پر سعودی جارحیت میں حالیہ اضافے کے آغاز سے اب تک سعودی دشمن کے فضائی اور میزائل حملوں کی کل تعداد 3596 ہو چکی ہے۔
ایک دن پہلے بھی یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے بتایا تھا کہ 24 گھنٹوں میں 101 سعودی فضائی اور میزائل حملے ہوئے، جن میں دارالحکومت صنعا کے ساتھ الجوف، تعز، عمران، حجہ، صعدہ، الضالع، المحویت اور لحج میں شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ یمن پریس ایجنسی کے مطابق اس وقت کل تعداد 3480 تھی۔ یوں صرف دو دنوں میں 217 سعودی حملے یمن پر برسے۔
اسی دوران یمن پریس ایجنسی نے صنعا کی وزارت صحت کے حوالے سے بتایا کہ تعز کے ضلع جبل حبشی کے علاقے بلاد الوافی کے گاؤں الاشعب پر سعودی جنگی طیاروں کے حملے میں ایک سترہ سالہ لڑکی شہید ہو گئی۔
جارحیت کی کوئی جائز بنیاد نہیں
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب انقلاب یمن کے رہبر سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے جمعرات کو یوم شہداء کے موقع پر خطاب کیا۔ سبا کے مطابق سید عبدالملک الحوثی نے کہا کہ یمن پر سعودی جارحیت کی 26 مارچ 2015 کو اپنے آغاز سے آج تک کوئی جائز بنیاد نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یمنی قوم کا مطالبہ واضح ہے: سعودی عرب اپنی جارحیت اور محاصرہ ختم کرے اور یمن کی قومی دولت پر سے اپنا قبضہ ہٹائے۔
یمنی مسلح افواج کے روزانہ بیانات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ سعودی جارحیت کا سب سے بڑا نشانہ یمن کے عام شہری، ان کے گھر اور ان کی بستیاں ہیں۔


