یمن اردو: صنعاء کے سرکاری ٹی وی چینل «الیمن» نے ایک گرفتار جاسوس عبدالمعین عزان کا اعتراف نشر کیا ہے، جس میں اس نے بتایا کہ اس نے ایک اسرائیلی خفیہ افسر سے ملاقات کی تھی اور اس ملاقات میں حرمین شریفین کو نشانہ بنانے کے ایک منصوبے پر بات ہوئی۔ المیادین نے جمعرات کی رات یمنی ٹی وی کے حوالے سے یہ تفصیل نقل کی۔

یمنی ٹی وی کے مطابق اس اسرائیلی منصوبے میں مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانا شامل تھا، تاکہ اس کے بعد عربوں اور مسلمانوں کو یمن کے خلاف بھڑکانے کے لیے بڑی مہمیں چلائی جائیں۔ چینل نے کہا کہ اس منصوبے میں اسرائیل کے دباؤ پر بحیرہ احمر کی حفاظت کو عالمی طاقتوں کے ہاتھ میں دینا بھی شامل ہے۔

مزید پڑھیں: مدینہ منورہ پر میزائل حملے کا سعودی دعویٰ سراسر جھوٹ ہے، ترجمان یمنی مسلح افواج یحییٰ سریع

یمنی ٹی وی نے کہا کہ یہ معلومات اس حقیقت کو سامنے لاتی ہیں کہ اسرائیل مسلمانوں کے مقدس مقامات کے بارے میں اپنے مقاصد پورے کرنے کے لیے کس طرح کے منصوبے بنا رہا ہے۔ عبدالمعین عزان اس سے پہلے بھی اپنے اعترافات میں کہہ چکا ہے کہ وہ برسوں امریکی خفیہ ادارے اور اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے لیے کام کرتا رہا۔

یہ اعتراف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسی دن سعودی اتحاد نے مدینہ منورہ کی طرف آنے والا میزائل روکنے کا دعویٰ کیا تھا۔ یمنی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع نے اس دعوے کو سراسر جھوٹ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یمنی کارروائیاں صرف سعودی تیل تنصیبات اور فوجی اڈوں پر ہوتی ہیں۔ صنعاء کا کہنا ہے کہ مقدس مقامات کے نام پر یمن کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے تاکہ یمن پر جارحیت اور محاصرے کو جائز دکھایا جا سکے۔

ذریعہ: المیادین، یمن ٹی وی صنعاء