یمن اردو: لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے بدھ کے روز ایک بیان میں یمن میں اپنے ماہرین کی موجودگی کے الزام کو سختی سے رد کر دیا۔ لبنانی چینل المیادین کے مطابق حزب اللہ نے کہا کہ وہ سعودی حمایت یافتہ نام نہاد «عبوری کونسل» کے وزیر داخلہ کے اس دعوے کو پوری طرح جھٹلاتی ہے کہ یمن میں حزب اللہ کے ماہرین موجود ہیں۔

حزب اللہ نے کہا کہ وہ انصار اللہ کے بھائیوں کی فوجی کارروائیاں چلانے، ان کے ہتھیار بنانے یا انہیں تربیت دینے میں اپنے ماہرین کی شرکت کی تردید کرتی ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ الزامات شروع سے آخر تک بے بنیاد ہیں اور کسی حقیقت پر قائم نہیں۔

مزید پڑھیں: یمنی افواج نے دو ماہ میں نو ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ علاقہ آزاد کرا لیا

بیان میں کہا گیا کہ عزیز یمنی قوم کے پاس اتنی طاقت اور اتنا تجربہ ہے کہ وہ کسی بھی حملے کے مقابلے میں اپنے ملک اور اپنی خودمختاری کا دفاع خود کر سکتی ہے۔ حزب اللہ کے مطابق یمن کو کسی کی مدد یا مداخلت کی ضرورت نہیں، اور یمن نے یہ بات امریکی اور اسرائیلی حملوں کا مقابلہ کر کے اور غزہ کی حمایت کر کے ثابت کر دی ہے۔

حزب اللہ نے یہ بھی کہا کہ یمنیوں کے درمیان سنجیدہ اور ذمہ دارانہ بات چیت ہی کسی بھی اختلاف کو حل کرنے کا اصل راستہ ہے، تاکہ یمن کی وحدت، خودمختاری اور امن محفوظ رہے۔ تنظیم کے مطابق یہی بات چیت امت کے دشمنوں کے ان منصوبوں کو ناکام بناتی ہے جن کا مقصد قوموں کے درمیان لڑائیاں بھڑکانا اور خطے کے ملکوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت کے وزیر داخلہ ابراہیم حیدان نے منگل کو دعویٰ کیا تھا کہ ایران اور حزب اللہ کے 21 ماہرین صنعاء، الحدیدہ، صعدہ، حجہ اور عمران میں انصار اللہ کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صنعاء کی افواج لحج اور دوسرے محاذوں پر سعودی اتحاد کے دھڑوں کو مسلسل پیچھے دھکیل رہی ہیں۔

ماخذ: المیادین، المنار