یمن اردو: صوبہ تعز کے ضلع الشمایتین میں سعودی جارح طیاروں نے ایک رہائشی گھر کو نشانہ بنایا، جس میں ایک ماں اور اس کے چار بچوں سمیت 6 یمنی شہری شہید ہو گئے۔ یہ خبر المسیرہ کے تعز میں موجود نامہ نگار نے دی ہے، اور ان کے مطابق یہ ابتدائی تعداد ہے۔
عزلہ المساحین میں گھر پر بمباری
المسیرہ کے مطابق سعودی دشمن کے جنگی طیاروں نے ضلع الشمایتین کی عزلہ المساحین میں ایک گھر پر بمباری کی۔ پہلی اطلاع میں بتایا گیا کہ اس حملے میں کئی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ بعد میں نامہ نگار نے بتایا کہ شہداء کی تعداد 6 ہو گئی ہے، جن میں ایک ماں اور اس کے چار بچے شامل ہیں۔
ایک ہی گھر کے پانچ افراد کا ایک ساتھ شہید ہو جانا اس ظلم کی سنگینی کو صاف دکھاتا ہے۔ یہ گھر عام شہریوں کا تھا، جہاں ایک ماں اپنے بچوں کے ساتھ رہ رہی تھی۔
مزید پڑھیں: یمن کی تازہ ترین خبریں
امدادی کارکنوں کو روکنے کے لیے دوبارہ حملہ
المسیرہ کے نامہ نگار کے مطابق سعودی طیاروں نے عزلہ المساحین کو دوبارہ نشانہ بنایا، تاکہ امدادی کارکن ملبے سے شہداء اور زخمیوں کو نہ نکال سکیں۔ زخمیوں تک پہنچنے والوں پر دوبارہ بمباری کرنا جارحیت کرنے والوں کا پرانا طریقہ ہے، جس سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔
الزکیرہ کا علاقہ بھی نشانے پر
المسیرہ نے یہ بھی بتایا کہ سعودی طیاروں نے اسی ضلع الشمایتین کی عزلہ الزکیرہ کو بھی نشانہ بنایا۔ اس حملے میں ہونے والے نقصان کی تفصیل ابھی سامنے نہیں آئی۔
یمن کے شہریوں پر مسلسل ظلم
یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب سعودی جارحیت یمن کے مختلف صوبوں میں عام شہریوں، گھروں اور عوامی سہولتوں کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں تعز، الجوف اور مارب میں بھی کئی حملے ہو چکے ہیں۔ یمنی عوام کا کہنا ہے کہ عورتوں اور بچوں کا خون بہانا اس جارحیت کا اصل چہرہ ہے، اور دنیا کی خاموشی اس ظلم کو مزید بڑھا رہی ہے۔
المسیرہ کے مطابق یہ شہداء کی ابتدائی تعداد ہے، اور ملبے سے مزید لوگوں کو نکالنے کا کام جاری ہے۔ مزید تفصیل آنے پر یہ خبر تازہ کی جائے گی۔


