یمن اردو: امریکہ نے سعودی عرب میں موجود اپنے سرکاری ملازمین اور شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ سعودی ہوائی اڈوں پر حملوں کا خطرہ ہے۔ یمنی خبر رساں ادارے یمن پریس ایجنسی کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے نے پیر کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر یہ حفاظتی انتباہ جاری کیا۔
امریکی سفارت خانے نے اپنے بیان میں انصار اللہ پر الزام لگایا کہ انہوں نے سعودی عرب کے شہری ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن سے سفر میں سخت رکاوٹیں آئیں۔ سفارت خانے کا کہنا ہے کہ یہ حالات تیزی سے بڑھ سکتے ہیں اور متاثرہ علاقے سے باہر بھی پھیل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: یمنی ڈرون حملوں سے دمام ہوائی اڈے پر پروازیں رک گئیں، ترجمان یمنی مسلح افواج یحییٰ سریع
بیان کے مطابق امریکی وزارت خارجہ 23 اکتوبر سے غیر ضروری سرکاری ملازمین اور ان کے گھر والوں کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دے چکی ہے۔ اب سعودی عرب میں کام کرنے والے امریکی سرکاری ملازمین کو کسی بھی سعودی ہوائی اڈے کو استعمال کرنے کے لیے سفیر کی خاص اجازت لینا ہوگی۔ سفارت خانے نے امریکی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ ہوائی اڈوں پر حملے، فضائی راستے بند ہونے اور پروازیں منسوخ ہونے کے خطرے کو سامنے رکھیں، انتہائی احتیاط کریں اور ہوائی اڈے جانے سے پہلے فضائی کمپنی سے پرواز کی صورتحال معلوم کر لیں۔
یہ انتباہ ایسے وقت آیا ہے جب یمن پر سعودی جارحیت اور محاصرے کے جواب میں یمنی مسلح افواج سعودی عرب کے اندر فوجی اور اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ ترجمان یمنی مسلح افواج یحییٰ سریع نے پیر کو بتایا تھا کہ دمام ہوائی اڈے کو دو ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا جس سے وہاں پروازیں رک گئیں، جبکہ جازان میں ریڈار اور ایک فوجی طیارے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایک دن پہلے سعودی عرب میں ہونے والا ایشیائی فٹبال کپ بھی بدامنی کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا تھا۔
ذریعہ: یمن پریس ایجنسی، پریس ٹی وی، یمنی مسلح افواج


