یمن اردو: یمنی مسلح افواج نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں انہوں نے سعودی عرب کے اندر چار بڑی کارروائیاں کی ہیں، جن میں ریاض میں سعودی وزارت دفاع کی عمارت، دمام کا شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈہ، ینبع میں آرامکو کی تنصیب اور ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈہ نشانہ بنے۔ افواج کے مطابق یہ کارروائیاں سو دن سے جاری اس سعودی جارحیت کا جواب ہیں جس میں یمن پر 2900 سے زیادہ فضائی اور میزائل حملے کیے گئے۔

یمنی مسلح افواج کے بیان میں کہا گیا کہ حالیہ سو روزہ سعودی تصعیدی مہم میں یمن کے شہری ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنایا گیا، درجنوں جرائم کیے گئے اور 562 سے زیادہ یمنی شہید و زخمی ہوئے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ بیان کے مطابق اسی جارحیت اور ملک و قوم پر بڑے پیمانے کی یلغار کے جواب میں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے یہ چاروں کارروائیاں کی گئیں۔

مزید پڑھیں: یمنی حملے، امریکا سعودی عرب سے سفارتی عملہ نکالنے پر مجبور

بیان میں بتایا گیا کہ پہلی کارروائی میں ریاض میں وزارت دفاع کے ہیڈکوارٹر کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔ دوسری کارروائی دمام کے شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہوئی جس سے وہاں فضائی آمد و رفت متاثر ہوئی۔ تیسری کارروائی میں ینبع میں آرامکو کمپنی کو براہ راست نشانہ بنایا گیا اور ہدف پر آگ بھڑک اٹھی، جبکہ چوتھی کارروائی میں ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے کو براہ راست ہدف بنایا گیا۔

پریس ٹی وی کے مطابق سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بھی جمعرات کو اپنے بیان میں تسلیم کیا کہ بدھ کے روز دمام کے شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد، ایک سعودی شہری اور ایک بھارتی رہائشی، ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے۔

یمنی مسلح افواج نے خبردار کیا کہ یمنی قبائل کو نشانہ بنانے کی سعودی دھمکی بے جواب نہیں رہے گی، اور اگر اس پر عمل کیا گیا تو نتائج تباہ کن اور غیر متوقع ہوں گے، یمن ان بڑے آپشنز کی طرف جائے گا جو وہ اختیار نہیں کرنا چاہتا تھا۔ افواج نے کہا کہ ملک اور عوام کے دفاع میں سعودی عرب کے اندر کارروائیاں جاری رہیں گی اور "محاصرے کے بدلے محاصرہ” اور "تصعید کے بدلے تصعید” کی مساوات برقرار رکھی جائے گی، یہاں تک کہ جارحیت رکے اور یمن پر مسلط محاصرہ ختم ہو۔

ماخذ: سبا نیوز ایجنسی، پریس ٹی وی