یمن اردو: یمنی مسلح افواج کی کارروائیوں اور بڑھتے ہوئے جنگی اخراجات کے باعث سعودی عرب کا بجٹ خسارہ اس سال کی تیسری سہ ماہی میں دگنا سے بھی زیادہ ہو گیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ سعودی عرب کا سہ ماہی بجٹ خسارہ پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں 145 فیصد بڑھ کر 84 ارب ریال سے تجاوز کر گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یمنی فوجی کارروائیوں نے سعودی عرب میں تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے اور کئی بڑے اقتصادی پروگرام منسوخ کرنا پڑے ہیں، جس سے ریاض پر بھاری مالی بوجھ پڑ گیا ہے۔ یمن پریس ایجنسی کے مطابق سعودی وزارت خزانہ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ تیسری سہ ماہی میں خسارہ 84.3 ارب ریال رہا، جو دوسری سہ ماہی میں 34.3 ارب ریال تھا، جبکہ اس سال اب تک کا کل خسارہ تقریباً 244.3 ارب ریال تک پہنچ چکا ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب میں سرمایہ کار آرامکو سے ہوشیار رہیں، یہ یمنی فوج کے نشانے پر ہے، یمنی فوجی ذریعہ
یمن پریس ایجنسی کے مطابق اس سال تیسری سہ ماہی تک سعودی عرب کے فوجی اخراجات 9 فیصد بڑھ کر 187.5 ارب ریال ہو گئے، جبکہ تیل سے ہونے والی آمدنی 1 فیصد کم ہو کر 446.3 ارب ریال رہ گئی۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ آرامکو کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے، باب المندب کے راستے سعودی عرب سے جڑے جہازوں پر سمندری ناکہ بندی، اور ڈرون اور میزائل حملوں سے بچاؤ کے بڑھتے خرچ نے سعودی معیشت پر دباؤ کئی گنا بڑھا دیا ہے۔
بلومبرگ نے یہ بھی بتایا ہے کہ سعودی عرب بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے سرکاری اور نجی منڈیوں سے مزید قرض لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس سے پہلے سعودی تیل کمپنی آرامکو کے 10 ارب ڈالر قرض لینے کی خبریں بھی سامنے آ چکی ہیں۔
ذریعہ: تسنیم نیوز ایجنسی، یمن پریس ایجنسی، المسیرہ


