یمن اردو: جنوبی یمن کے سیاسی رہنما اور منتدی السلام کے سربراہ عادل الحسنی نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں انصار اللہ کے سربراہ سید عبدالملک بدرالدین الحوثی کی طرف سے ایک خط ملا ہے، جس میں جنوبی صوبوں کو جاری جنگ سے بچانے کی سنجیدہ پیشکش کی گئی ہے۔ الحسنی نے یہ بات منگل کو سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہی، جسے یمن پریس ایجنسی نے تفصیل سے شائع کیا ہے۔

الحسنی کے مطابق سید عبدالملک الحوثی کی پیشکش یہ ہے کہ صنعاء کی فوج جنوبی صوبوں میں ایک بالشت بھی داخل نہیں ہو گی، بشرطیکہ جنوب کے لوگ صنعاء اور ریاض کی لڑائی سے الگ رہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صنعاء کی فوج باب المندب میں سعودی جہازوں کا راستہ روکنے کی طرف بڑھ رہی ہے، اور سعودی جہازوں کو اس وقت تک گزرنے نہیں دیا جائے گا جب تک سعودی عرب تمام جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دیتا، ہوائی اڈے نہیں کھولتا، محاصرہ ختم نہیں کرتا اور یمن سے اپنا ہاتھ نہیں ہٹاتا۔

الحسنی نے بتایا کہ اس سے پہلے صبیحہ قبائل کے بائیس سرداروں نے بھی ایک تجویز دی تھی، جسے انہوں نے خود صنعاء میں فوج کے سربراہ ابو حسین المدانی تک پہنچایا تھا۔ اس تجویز میں کہا گیا تھا کہ صنعاء کی فوج صبیحہ کے دیہات کے اوپر کے علاقوں سے پیچھے ہٹ جائے اور دوسری طرف کی فوج بھی وہاں نہ آئے۔ ان کے مطابق صنعاء نے تین دن میں اسے مان لیا، بشرطیکہ قبائل یہ ضمانت دیں کہ پیچھے سے دھوکا نہیں ہو گا، لیکن سعودی عرب نے بیچ میں آ کر اس تجویز کو سختی سے روک دیا اور صنعاء اور قبائل کے درمیان ہر ثالثی کو غداری قرار دے دیا۔

مزید پڑھیں: صنعاء کی افواج نے لحج میں سعودی حمایت یافتہ 35 سے زائد اہلکاروں کو گھیر لیا، یمن پریس ایجنسی

الحسنی نے کہا کہ یہ کیسی بات ہے کہ جب سعودی عرب کو جنگ بندی چاہیے ہو تو اس کا سفیر خود صنعاء جا کر معاہدے کرتا ہے، لیکن اپنے ساتھ لڑنے والوں کو اپنا خون بچانے کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے بتایا کہ سید عبدالملک الحوثی کی پیشکش اب بھی موجود ہے اور اس پر سو سے زیادہ قبائلی اور سیاسی شخصیات نے غور کیا ہے، لیکن جنوب کا کوئی فوجی کمانڈر ایسا نہیں جس کے پاس اس کا جواب دینے کا اختیار ہو۔

ان کے مطابق جنوب میں موجود فوج کا ایک حصہ امارات کے حکم پر چلتا ہے اور تقریباً نوے فیصد فوج کا فیصلہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے جنوب کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس لڑائی میں غیر جانبدار رہیں، کیونکہ باب المندب پر قبضے کی اس جنگ سے انہیں کوئی فائدہ نہیں، اور ان کا کام صرف دوسروں کے لیے اپنا خون بہانا رہ گیا ہے۔ الحسنی نے یہ بھی کہا کہ صنعاء کی فوج نے صبیحہ، مضاربہ، کہبوب اور تربہ تک جن پہاڑی سلسلوں پر کنٹرول حاصل کیا ہے، سعودی عرب انہیں کبھی واپس نہیں لے سکے گا۔

ذریعہ: یمن پریس ایجنسی، عادل الحسنی کا ویڈیو پیغام