یمن اردو: انصار اللہ کے ترجمان اور یمن کے چیف مذاکرات کار محمد عبدالسلام نے سعودی عرب کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ صنعاء نے عمان میں سعودی نمائندوں سے ملاقات سے انکار کیا تھا۔ اتوار کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب یمن کے حوالے سے اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہا اور جولائی میں صنعاء بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اس کے حملے نے جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں کا خاتمہ کر دیا۔

رواں ہفتے کے اوائل میں سعودی وزارتِ خارجہ کے نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری نے الزام لگایا تھا کہ جولائی میں کشیدگی کے آغاز پر صنعاء نے مسقط میں سعودی نمائندوں سے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔ سعودی عہدیدار کا کہنا تھا: «ہم نے انہیں مسقط، عمان میں ملاقات کے لیے کہا اور انہوں نے انکار کر دیا۔»

مزید پڑھیں: 24 گھنٹوں میں 110 حملے، سعودی جارحیت بے لگام

محمد عبدالسلام نے اس کے جواب میں واضح کیا کہ یمنی وفد بار بار سعودی عرب سے مطالبہ کرتا رہا کہ وہ یمن پر عائد محاصرہ ختم کرے اور انسانی مسائل کے حل کے لیے طے شدہ روڈ میپ پر عمل درآمد کرے، لیکن ریاض نے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ ان کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان براہِ راست اور بالواسطہ رابطے کشیدگی سے پہلے بھی جاری تھے اور بعد میں بھی جاری رہے۔

یمنی مذاکرات کار نے کہا کہ سعودی حکام کا خیال تھا کہ یمن پر انسانی اور معاشی دباؤ بڑھا کر صنعاء کو وہ مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے جو ریاض فوجی طاقت سے حاصل نہیں کر سکا۔ انہوں نے بتایا کہ صنعاء نے سعودی عرب کو ہوائی اڈے پر حملے کے سنگین نتائج سے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا اور اس حملے کو اشتعال انگیز اقدام قرار دیا جس نے جنگ بندی کو ختم کر دیا۔

صنعاء ایئرپورٹ پر سعودی حملے کے بعد یمنی مسلح افواج نے «محاصرے کے بدلے محاصرہ» کی پالیسی اپناتے ہوئے بحیرۂ احمر میں سعودی جہاز رانی پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سے یمنی افواج سعودی جارحیت کے جواب میں سعودی ہوائی اڈوں اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

پریس ٹی وی کے مطابق 10 اکتوبر کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے میں 13 افراد ہلاک اور تقریباً 300 زخمی ہوئے، جو ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی عرب پر سب سے مہلک حملہ تھا، جبکہ سعودی اتحاد کے مطابق یمنی افواج رواں ماہ ریاض ایئرپورٹ کو 20 مرتبہ نشانہ بنا چکی ہیں۔

ماخذ: پریس ٹی وی