یمن اردو: لیبیا کے بااثر مفتی شیخ صادق الغریانی نے سعودی عرب کے دفاعی اتحادوں کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ «سعودی عرب کے اتحاد اس لیے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان لڑائی کی شدت بڑھے، نہ کہ صہیونیوں سے جنگ کے لیے۔» مفتی صادق الغریانی نے یہ بات جمعہ 16 اکتوبر 2026 کو کہی۔
شیخ الغریانی نے عرب اور اسلامی ممالک کی جانب سے فلسطینی عوام کے ساتھ کسی مشترکہ دفاعی اتحاد کے فقدان پر سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا: «ہم عرب اور اسلامی ممالک کے درمیان بہت سے مشترکہ دفاعی اتحاد دیکھتے ہیں، لیکن مسلمانوں کے مقدسات کے دفاع کے لیے فلسطینی عوام کے ساتھ کوئی اتحاد موجود نہیں۔»
مزید پڑھیں: شہادت سے قبل سید عبدالمالک حوثی کا شہید یحیی السنوار کے نام خط
پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے لیبیا کے مفتی نے کہا کہ پاکستان اور فلسطینی عوام کے درمیان بھی ایسا کوئی دفاعی اتحاد نہیں بنا جو مقدسات کا دفاع کرے اور غزہ و مغربی کنارے کے مستضعفین کی نسل کشی کا مقابلہ کرے۔ ان کے مطابق مسلمانوں نے وہ اتحاد چھوڑ دیا جو انہیں فلسطینی عوام کے ساتھ بنانا چاہیے تھا، اور دوسری شراکت داریوں میں مصروف ہو گئے۔
یہ بیان سعودی عرب کے پاکستان اور ترکی کے ساتھ دفاعی تعاون کے ردعمل میں سامنے آیا ہے۔ یمنی خبر رساں ادارے «26 ستمبر نیٹ» نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ شیخ الغریانی کی تنقید کا رخ سعودی عرب کے پاکستان اور ترکی کے ساتھ اتحاد اور یمن کے خلاف جنگ میں اس کے کردار کی طرف ہے، اور اس تعاون کو یمنی عوام کے مقابلے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
شیخ صادق بن عبدالرحمن علی الغریانی مالکی مسلک کے ممتاز عالم ہیں۔ انہوں نے جامعہ الازہر سے فقہِ مقارن میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی، اور 1984 میں برطانیہ کی ایکسٹر یونیورسٹی سے اسلامی علوم میں ایک اور ڈاکٹریٹ حاصل کی۔ وہ تین دہائیوں سے زیادہ تدریس کر چکے ہیں اور سعودی عرب اور امارات کی علاقائی پالیسیوں، یمن پر جنگ اور اسرائیل سے تعلقات کے سخت ناقد سمجھے جاتے ہیں۔
شیخ الغریانی کا یہ مؤقف ان معتدل اہلِ سنت علماء کی آواز ہے جو کہتے ہیں کہ اسلامی ممالک کی دفاعی صلاحیت فلسطین کے دفاع اور صہیونی دشمن کے مقابلے کے لیے استعمال ہونی چاہیے، نہ کہ یمن جیسے مظلوم مسلمان ملک پر جنگ مسلط کرنے کے لیے۔
ماخذ: سیاق


