یمن اردو: یمنی مسلح افواج کے مسلسل اور کاری حملوں نے سعودی عرب کو اس کے سب سے بڑے سرپرست امریکا کے لیے بھی غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب میں تعینات اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کا باضابطہ حکم (ordered departure) جاری کر دیا ہے۔ الجزیرہ اور رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ سعودی عرب پر یمنی حملوں میں تیزی کے بعد کیا گیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگٹ نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں خود اعتراف کیا کہ سعودی عرب کے خلاف کارروائیاں بڑھ گئی ہیں، جن میں شہری ہوائی اڈوں اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے پر حملے شامل ہیں، اور ان کے نتیجے میں "سفر میں شدید رکاوٹیں” پیدا ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمے کے عملے اور ان کے خاندانوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ بی بی سی کے مطابق ترجمان نے یہ بھی خبردار کیا کہ صورتحال "تیزی سے مزید بگڑ سکتی ہے”۔

مزید پڑھیں: یمنی حملوں کا خوف، ریاض کا مشہور کنگڈم سینٹر ٹاور خالی

رائٹرز نے چار امریکی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ دیگر خلیجی ممالک میں امریکی مشنز بھی اہلکاروں کے خاندانوں کو واپس بھیجنے کا حکم دیں گے۔ اے ایف پی کے مطابق مشرق وسطیٰ کے ایک سفارتی ذریعے نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات، اردن، قطر اور بحرین سے بھی بعض امریکی سفارتی اہلکاروں کے خاندان نکالے جا رہے ہیں، تاہم امریکی ترجمان کا اصرار ہے کہ بدھ کا حکم صرف سعودی عرب کے لیے ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکی فوج بھی خطے میں اپنی چوکیوں پر موجودگی خاموشی سے کم کر رہی ہے۔

یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ریاض میں امریکی سفارتخانے نے بدھ ہی کو سعودی عرب پر مزید حملوں کے خدشے کا سیکیورٹی الرٹ جاری کیا۔ بی بی سی کے مطابق دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ایک بار پھر نشانہ بنایا گیا جبکہ ایک تیل فیلڈ پر حملے کے دوران مار گرائے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے بھی ہلاکتیں ہوئیں۔ سی بی ایس کے مطابق رواں ماہ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر یمنی حملے میں 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ یمن پر سعودی جارحیت کے جواب میں یمنی افواج سعودی ہوائی اڈوں، تیل تنصیبات اور فوجی اڈوں کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہیں۔ امریکی عملے کا انخلا اس بات کا کھلا اعتراف ہے کہ واشنگٹن کو بھی اب سعودی فضائی دفاع پر بھروسہ نہیں رہا اور یمن کی جوابی طاقت نے جنگ کا توازن بدل دیا ہے۔

ماخذ: الجزیرہ، رائٹرز، اے ایف پی، بی بی سی