یمن اردو: یمن کی جانب سے سعودی دارالحکومت ریاض کو غیر محفوظ قرار دیے جانے کے بعد شہر کا مشہور کنگڈم سینٹر ٹاور خالی کرا لیا گیا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، ریاض کی بلند ترین عمارتوں میں شامل اس 99 منزلہ ٹاور کی انتظامیہ نے تمام دفتری ملازمین کے لیے تاحکم ثانی گھر سے کام کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔

اے ایف پی نے عمارت کی انتظامیہ کی ای میل دیکھی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کنگڈم سینٹر کے تمام دفتری ملازمین کے لیے گھر سے کام کرنا فوری طور پر اور اگلے حکم تک لازمی ہے، اور ملازمین اس دوران دفاتر آنے سے گریز کریں۔ اس ٹاور میں عالمی مالیاتی ادارے میرل لنچ، مشاورتی کمپنی میکنزی اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے دفاتر ہیں۔

مزید پڑھیں: سعودی فضا غیر محفوظ ہے، یمنی مسلح افواج کا دوٹوک انتباہ

رپورٹ کے مطابق یہ حکم ریاض میں نئے سکیورٹی الرٹ اور دارالحکومت کے اطراف دو ڈرون روکنے کے سعودی دعوے کے بعد جاری کیا گیا۔ صرف ٹاور کے نیچے واقع شاپنگ مال کھلا رکھا گیا ہے۔

اے ایف پی کی ایک اور رپورٹ کے مطابق ریاض کے سرکاری اداروں نے بھی 19 اکتوبر سے اپنے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کر دی ہے، جبکہ ذرائع کے مطابق وسطی ریاض کے العلیا علاقے کی بلند عمارتوں میں قائم سرکاری دفاتر دو ہفتے پہلے ہی خالی کرا لیے گئے تھے۔

اسی دوران ریاض اور اطراف کے اسکولوں میں آن لائن تعلیم دوسرے ہفتے تک بڑھا دی گئی ہے، اور ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ یمنی حملے کے بعد سے بدستور بند ہے۔ سعودی دارالحکومت کی یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ یمن کے خلاف جنگ چھیڑنے والا سعودی عرب اب اپنے ہی دارالحکومت کے مرکز میں سلامتی کی ضمانت دینے سے قاصر ہے۔

ماخذ: اے ایف پی، بزنس ریکارڈر، المانیٹر