یمن اردو: معروف پاکستانی مصنفہ فاطمہ بھٹو نے یمن پر بمباری کو بدترین جرم قرار دیتے ہوئے پاکستانی قوم سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ ہمارے ہاتھ اپنے مسلمان بھائیوں کے خون سے پاک رہنے چاہییں۔ انہوں نے یہ اپیل 6 اکتوبر کو اپنے سب اسٹیک بلاگ پر شائع تحریر میں کی، جسے ایکس پر شیئر کرتے ہوئے انہوں نے "اپنے ملک کے نام ایک التجا” قرار دیا، اور دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ یمن پر بمباری نہ آج قابل قبول ہے نہ کبھی ہو گی۔
فاطمہ بھٹو نے لکھا کہ یمن پر حملہ کرنے والی کسی قوت کا حصہ بننا اعلیٰ ترین درجے کا جرم ہے؛ یہ دین کے خلاف جرم ہے، ان مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے قتل کا جرم ہے جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے سعودی عرب کے شدید حملے برداشت کر رہے ہیں، اور یہ اخوت کے خلاف جرم ہے۔ انہوں نے پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ اس کی ایک بیٹی کی حیثیت سے ان کی فوری التجا ہے کہ ہمارے ہاتھوں کو بھائیوں کے خون سے پاک رکھا جائے۔
مزید پڑھیں: سو دن میں 2900 سعودی حملے، جواب میں ریاض وزارت دفاع سمیت 4 اہداف پر یمنی وار
اپنی تحریر میں انہوں نے یاد دلایا کہ سعودی عرب گیارہ برس سے یمن کا محاصرہ کیے ہوئے ہے اور لاکھوں یمنیوں کی ہلاکت کا ذمہ دار ہے۔ ان کے مطابق محاصرے کے باعث ہیضے کی وبائیں پھیلیں جن میں بڑی تعداد میں بچے جاں بحق ہوئے اور یمن میں ادویات کا داخلہ روکا گیا۔ فاطمہ بھٹو نے یمنی عوام کو اسرائیل کے خلاف جدوجہد میں ثابت قدم اور فلسطین کے لیے جنگی جہازوں کا راستہ روکنے والی بہادر قوم قرار دیا، اور لکھا کہ تیل کی تمام تر دولت اور امریکی ہتھیاروں کے باوجود سعودی عرب چپلیں پہن کر لڑنے والوں کو شکست نہ دے سکا، کیونکہ یہ سرزمین یمنیوں کی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ یمن پر حملوں سے فائدہ کس کو پہنچتا ہے، اور جواب دیا کہ اس کا فائدہ نہ مسلم دنیا کو ہے اور نہ فلسطینیوں کو، بلکہ صرف امریکا اور اسرائیل کو ہے۔ تحریر کے آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے قیام کے اس خواب کی تعبیر بننا چاہیے جس کے تحت وہ پناہ کے متلاشیوں کا محافظ اور مظلوموں کا سرپرست ہو۔
فاطمہ بھٹو کی یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن پر سعودی جارحیت جاری ہے۔ یمنی مسلح افواج کے حالیہ بیان کے مطابق سو دن سے جاری سعودی تصعیدی مہم میں یمن پر 2900 سے زیادہ فضائی اور میزائل حملے کیے گئے، شہری ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنایا گیا اور 562 سے زیادہ یمنی شہید و زخمی ہوئے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔
ماخذ: فاطمہ بھٹو کا سب اسٹیک بلاگ (6 اکتوبر 2026)، فاطمہ بھٹو کا ایکس اکاؤنٹ، یمنی مسلح افواج، سبا نیوز ایجنسی


