یمن اردو: سعودی جنگی طیاروں نے ہفتے کے روز جنوبی یمن کی سب سے اہم سڑکوں میں سے ایک، ہیجہ العبد سڑک پر شدید بمباری کی ہے۔ یہ سڑک تعز صوبے کے جنوب کو لحج صوبے کے مغرب سے ملاتی ہے اور تعز سے عدن جانے کا اہم راستہ ہے۔ یہ خبر یمنی خبر رساں ادارے البوابہ الاخباریہ الیمنیہ نے قبائلی ذرائع کے حوالے سے دی ہے۔

درجنوں بم، سڑک مکمل طور پر بند

قبائلی ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے اس سڑک پر درجنوں بم گرائے۔ بمباری اس دشوار پہاڑی راستے کے مختلف حصوں پر کی گئی جس سے سڑک کٹ گئی اور آمد و رفت بند ہو گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد سڑک کو پوری طرح تباہ کرنا تھا۔ اگرچہ حالیہ کشیدگی کے دوران اس سڑک پر پہلے بھی حملے ہوئے ہیں، لیکن یہ پہلی بار ہے کہ اسے مکمل طور پر برباد کرنے کی کوشش کی گئی۔

مزید پڑھیں: تعز کے الشمایتین پر ہفتے کی صبح سعودی فضائی حملوں کا سلسلہ

عام شہری سب سے زیادہ متاثر

ہیجہ العبد سڑک تعز کے لاکھوں لوگوں کے لیے زندگی کی لکیر سمجھی جاتی ہے۔ اسی راستے سے کھانے پینے کا سامان، دوائیں اور مسافر آتے جاتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سڑک کی تباہی سے سب سے زیادہ نقصان عام یمنی شہریوں کو ہوگا، اور تعز کے لوگوں پر اصل ناکہ بندی وہی کر رہے ہیں جو ان کی سڑکیں اور ضرورت کی ہر چیز تباہ کر رہے ہیں۔

لحج میں صنعاء کی افواج کی پیش قدمی

خبر رساں ادارے کے مطابق یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب صنعاء کی افواج سعودی حمایت یافتہ جتھوں کو نکالنے کی جنگ میں اہم کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ ان کے دستے عدن سے ملحق لحج صوبے کے اندر کئی اہم اضلاع تک پہنچ چکے ہیں، جن میں تازہ ترین مغربی لحج کا اہم ضلع المقاطرہ ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ وقت کے لحاظ سے یہ بمباری عدن کی طرف صنعاء کی افواج کی پیش قدمی کو سست کرنے کی کوشش لگتی ہے، خاص طور پر اس کے بعد کہ سعودی عرب کے حامی دھڑے غیر معمولی طور پر بکھر گئے ہیں۔

یمنی عوام کا کہنا ہے کہ سعودی جارحیت اب یمن کی سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنا رہی ہے، جبکہ یمنی افواج اپنی سرزمین کو قابضین سے آزاد کرانے کے لیے ڈٹی ہوئی ہیں۔