یمن اردو: یمن پر سعودی جارحیت کا بوجھ اب سعودی تیل کمپنی آرامکو کی تجوری تک پہنچ گیا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق آرامکو عالمی بینکوں سے 10 ارب ڈالر کے قرض کا معاہدہ کرنے کے قریب ہے، تاکہ خطے میں جاری جنگ کے باعث خام تیل کی برآمدات کو لاحق خطرات کے بیچ اپنی مالی حالت سنبھال سکے۔ یہ قابلِ تجدید قرض سہولت آنے والے ہفتوں میں دستخط کی جائے گی۔

بلومبرگ کے مطابق قرض دینے والوں میں بینک آف چائنا، سٹی گروپ، ایچ ایس بی سی، انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا، جے پی مورگن چیز اور مٹسوبیشی یو ایف جے فنانشل گروپ شامل ہیں، اور شرحِ سود امریکی ڈالر کے بینچ مارک سوفر سے 0.6 فیصد زیادہ رکھی گئی ہے۔ رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں یمنی افواج نے آرامکو کے صدر دفتر، ایک بڑے تیل فیلڈ، کم از کم ایک ریفائنری اور بحیرۂ احمر پر ینبع کی اہم بندرگاہ کو نشانہ بنایا ہے۔

مزید پڑھیں: جارحیت پر جوابی وار، راس تنورہ ریفائنری اور سعودی وزارت دفاع پر یمنی میزائل

اقتصادی جریدے انٹرپرائز کے مطابق آرامکو کے سربراہ امین ناصر اسی ماہ کہہ چکے ہیں کہ دنیا بھر میں خام تیل کی قلت سنگین ہے۔ کمپنی تیل کی برآمد کے نئے راستے اور بیرون ملک ذخیرہ گاہیں بنا رہی ہے، اور اپنے ذخائر دوبارہ بھرنے میں دو سال تک لگ سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ دباؤ صرف آرامکو تک محدود نہیں بلکہ پوری سعودی معیشت پر بڑھ رہا ہے، اور ریاض بھی اپنی مالی حالت سنبھالنے کے لیے عالمی قرض دہندگان کی طرف رجوع کر رہا ہے۔

صنعاء سے یمنی ماہر اقتصادیات رشید الحداد نے المسیرہ سے گفتگو میں کہا کہ اگر سعودی نظام یمن کے جائز مطالبات تسلیم کر لیتا اور جارحیت دوبارہ شروع نہ کرتا تو آرامکو کو قرض کی ضرورت ہی نہ پڑتی، کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد عالمی منڈی بحیرۂ احمر کے راستے سعودی تیل کی منتظر تھی۔ ان کے مطابق راس تنورہ، ینبع، رابغ اور جیزان کی ریفائنریاں نشانے پر آ چکی ہیں، متبادل راستوں اور جہاز سے جہاز منتقلی سے فی بیرل 15 سے 20 ڈالر اضافی خرچ ہو رہا ہے، اور ریاض نقصانات چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔

رشید الحداد نے خبردار کیا کہ آرامکو کی آئندہ قرض لینے کی صلاحیت یمن میں جنگ کے رخ اور اس بات پر منحصر ہے کہ سعودی نظام اُس امن معاہدے پر عمل کرتا ہے یا نہیں جس پر دستخط کے بعد وہ مکر گیا۔ ان کے بقول بحران مزید گہرا ہوگا جب تک سعودی نظام جارحیت ختم نہیں کرتا، محاصرہ نہیں اٹھاتا اور یمن کے ساتھ امن کی شرائط پوری نہیں کرتا۔

ماخذ: بلومبرگ، انٹرپرائز، المسیرہ