یمن اردو: لبنانی اخبار الاخبار نے یمنی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب یمن اور انصار اللہ کے خلاف جنگ میں جھونکنے کے لیے شام سے 10 ہزار تک جنگجو منتقل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک اعلیٰ سطحی شامی فوجی وفد نے گزشتہ دنوں ریاض میں سعودی حکام سے اس منصوبے پر مشاورت کی، جبکہ ایک شامی فوجی مشاورتی ٹیم نے جنوبی سعودی عرب کے علاقوں نجران اور عسیر کا دورہ مکمل کیا۔ یہ سرگرمیاں ایسے وقت میں ہوئیں جب مصری فضائیہ کے متعدد فوجی کارگو طیارے ریاض کے باہر واقع پرنس سلطان فوجی ہوائی اڈے پر اترے، جو یمن کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کی مدد کے مصری فیصلے پر عمل درآمد ہے۔

الاخبار کے مطابق گزشتہ ہفتے کے وسط میں ریاض پہنچنے والے شامی وفد کی قیادت سابق دھڑے "انصار التوحید” کے سربراہ اور نئی شامی فوج کے "ڈویژن 82” کے کمانڈر بریگیڈیئر خالد خطاب اور فوج کے "تھرڈ کور” کے کمانڈر بریگیڈیئر ہیثم العلی (ابو مسلم) کر رہے تھے، جو ماضی میں ہیئۃ تحریر الشام کے کمانڈروں میں شامل رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق خالد خطاب نے سعودی افسروں کے ہمراہ چار دن جنوبی سعودی عرب میں گزارے اور عسیر اور نجران میں شامی جنگجوؤں کو ٹھہرانے کے لیے تیار کیے جانے والے مقامات کا معائنہ کیا، جبکہ ہیثم العلی نے ریاض میں سعودی وزارت دفاع کے ہیڈکوارٹر میں سعودی افسروں سے ملاقاتوں میں تقریباً 10 ہزار شامی جنگجوؤں کی منتقلی کے اخراجات، مالی انتظامات، مراعات اور ان کے فوجی مشن پر بات چیت کی۔ رپورٹ کے مطابق شامی ٹیم نے منتقلی کے لاجسٹک انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے، حالانکہ شام کی عبوری حکومت نے جنوبی سعودی عرب میں ہزاروں مسلح افراد بھیجنے کی خبروں کی تردید کی تھی۔

مزید پڑھیں: جیزان میں مصری اور پاکستانی فوجی، یمن کا دوٹوک انتباہ

الاخبار نے عدن حکومت کے حامی متعدد ذرائع کے حوالے سے یہ بھی بتایا کہ ڈرون چلانے کی تربیت دینے والے درجنوں شامی ٹرینر عسیر کے کیمپوں کے علاوہ وادی حضرموت کے مرکز سیئون کے مضافات میں "فرسٹ ملٹری ریجن” کے کیمپوں، حضرموت کے الخشعہ کیمپ اور العند فوجی اڈے پر موجود ہیں، جہاں وہ سعودی حمایت یافتہ "درع الوطن” اور "العمالقہ بریگیڈز” کے اہلکاروں کو تربیت دے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق شامی ڈرون آپریٹرز نے گزشتہ ہفتوں میں عسیر، الودیعہ اور شرورہ میں سعودی "ایمرجنسی فورسز” کے اندر ڈرون یونٹ بھی قائم کر دیے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ صنعاء کے باخبر ذرائع پہلے ہی باب المندب کے جنوب میں حالیہ لڑائی میں غیر ملکیوں کی شرکت کی طرف اشارہ کر چکے ہیں۔

صنعاء کے ایک باخبر فوجی ذریعے نے الاخبار سے گفتگو میں کہا کہ یمن کے خلاف جنگ میں کوئی بھی شامی شرکت سرکاری نہیں ہوگی، اور یہ کہ امریکہ، ترکی، قطر اور سعودی عرب، جنہوں نے بشار الاسد کی حکومت گرانے کے لیے برسوں تک دہشت گرد تنظیموں اور انتہا پسند گروہوں کو شام میں جمع کیا، تربیت دی اور ان کی مدد کی، آج وہی "حلف مکہ” میں شریک ہیں۔ اس ذریعے کے مطابق انتہا پسندوں کے لشکر بھیجنا ایک انٹیلی جنس کارروائی ہے جسے حکومتیں تسلیم نہیں کرتیں کیونکہ یہ بین الاقوامی قانون کے منافی ہے، اور "امریکی انٹیلی جنس کے سلفیوں” اور دہشت گرد تنظیموں کا استعمال امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس کی چلائی جانے والی خفیہ جنگوں کی ایک شکل ہے۔ رپورٹ کے مطابق شام ٹی وی نے بتایا تھا کہ خالد خطاب غیر شامی غیر ملکی جنگجوؤں کو یمن منتقل کرنے کے لیے جمع کرنے کے ذمہ دار ہیں، جنہیں پرکشش تنخواہیں، مفت حج و عمرہ اور بعد میں اپنے خاندان یمن منتقل کرنے کی سہولت دی جائے گی۔

الاخبار کے مطابق صنعاء کے مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب گزشتہ کئی ہفتوں سے حضرموت اور شبوہ میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر "التوحید بریگیڈز” کے نام سے نئے بریگیڈ تشکیل دے رہا ہے، جو شام سے سیکڑوں انتہا پسند جنگجوؤں کو وصول کرنے کا پردہ بن سکتے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے جنوبی صوبوں میں سلفی تعلیم کے بڑی تعداد میں مراکز قائم کیے ہیں جنہیں ہزاروں یمنی نوجوانوں کو بھرتی کرنے کے لیے بھاری مدد دی جا رہی ہے، اور یہ سب ایک ایسے سعودی منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد یمن کو ایک طویل فرقہ وارانہ تنازع میں دھکیل کر کمزور اور غیر مستحکم رکھنا اور اس کی تیل، گیس اور معدنی دولت سے فائدہ اٹھانے کی ہر کوشش کو ناکام بنانا ہے۔

ماخذ: الاخبار (لبنان)، بحوالہ الحقیقہ