یمن اردو: یمنی مسلح افواج کے ایک ذریعے نے سعودی عرب میں پیسہ لگانے والے سرمایہ کاروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سعودی تیل کمپنی آرامکو کے جال میں نہ پھنسیں، کیونکہ آرامکو یمنی مسلح افواج کے نشانے پر ہے۔ یہ بات اس فوجی ذریعے نے منگل کی شام یمنی خبر رساں ادارے سبا سے گفتگو میں کہی۔

فوجی ذریعے کے مطابق آرامکو جو بڑا منافع بانٹنے کا اعلان کرتی ہے وہ سرمایہ کاروں کے لیے ایک دھوکا ہو سکتا ہے، اگر اس کے پیچھے چھپے خطرات کو نظر انداز کیا جائے یا لمبے عرصے کے لیے جھوٹے استحکام کا تاثر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آرامکو کے بانٹے گئے منافع کا 97 فیصد حصہ اصل میں سعودی حکومت کے اپنے حصے میں واپس جاتا ہے اور عام حصہ داروں تک نہیں پہنچتا۔

مزید پڑھیں: جارحیت مہنگی پڑ گئی، یمن جنگ کے بیچ سعودی آرامکو 10 ارب ڈالر قرض لینے پر مجبور

یمنی فوجی ذریعے نے مزید کہا کہ آرامکو کا 10 ارب ڈالر قرض لینے کی طرف جانا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کی مالی حالت کو دوبارہ جانچا جائے، خاص طور پر اس وقت جب اس کی تنصیبات پر حملوں کا خطرہ موجود ہے۔ ان کے مطابق منافع کی چمک دمک اصل خطروں کو چھپا نہیں سکتی، اور اصل بات یہ ہے کہ کمپنی آگے چل کر منافع کما سکتی ہے یا نہیں، نہ کہ آج کتنا پیسہ بانٹا جا رہا ہے۔

یہ انتباہ ایسے وقت میں آیا ہے جب سعودی جارحیت کے جواب میں یمنی مسلح افواج سعودی ہوائی اڈوں اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں، اور سعودی وزارت خزانہ کے اعداد کے مطابق اس سال کی تیسری سہ ماہی میں سعودی بجٹ کا خسارہ بڑھ کر 84.3 ارب ریال ہو گیا ہے جو دوسری سہ ماہی میں 34.3 ارب ریال تھا۔ اس سے پہلے بھی صنعاء کے فوجی ذرائع کہہ چکے ہیں کہ آرامکو کی تنصیبات یمنی مسلح افواج کی پہنچ میں ہیں۔

ذریعہ: سبا نیوز ایجنسی، المسیرہ، المیادین، یمن پریس ایجنسی