یمن اردو: سعودی بمباری اور محاصرے کے جواب میں یمن کے قبائل ایک بار پھر میدان میں ہیں۔ حجہ اور صعدہ کی سرحدی پہاڑیوں سے لے کر صنعاء، تعز اور الحدیدہ کے ساحل تک اتوار 18 اکتوبر کو مختلف اضلاع میں قبائل نے مسلح اجتماعات اور وقفات منعقد کر کے نفیر عام، مکمل تیاری اور مسلح افواج کی پشت پناہی کا اعلان کیا۔ یمنی ویب سائٹ "یمانیون” کے مطابق وشحہ، الحیمہ الداخلیہ، رازح، بلاد الروس، الصلو اور الصلیف کے قبائل نے ایک ہی پیغام دیا: خودمختاری کے دفاع سے پیچھے ہٹنا نہیں، اور جارحیت کا مقابلہ اور فلسطین کی حمایت ایک دوسرے سے جدا نہیں۔
یمنی خبر رساں ادارے سبا کے مطابق صوبہ صنعاء کے ضلع بلاد الروس میں جنرل موبلائزیشن کے تعاون سے بڑی مسلح قبائلی وقفہ ہوئی، جس میں صوبہ صنعاء کے نائب گورنر ابو نجوم المحاقری، دارالحکومت کے نائب ناظم علی القفری اور مقامی، سکیورٹی اور سماجی شخصیات شریک ہوئیں۔ ضلع کے ڈائریکٹر صالح ناجی نے کہا کہ بلاد الروس کے عوام اپنے بڑے اجتماع کے ذریعے وطن کے دفاع کو "مقدس فریضہ” سمجھتے ہوئے نفیر عام کا اعلان کر رہے ہیں۔ اوقاف و ارشاد کی جنرل اتھارٹی کے نائب سربراہ علامہ فؤاد ناجی نے قبائل کی تیاری کو سراہا۔
مزید پڑھیں: 24 گھنٹوں میں یمن پر 110 حملے، سعودی جارحیت بے لگام
اجتماع کے اعلامیے میں قائد انقلاب سید عبدالملک بدرالدین الحوثی کو تمام اسٹریٹجک اور بازدارانہ آپشنز کا مکمل اختیار دینے کی تجدید کی گئی اور "محاصرے کا جواب محاصرہ، تصعید کا جواب تصعید” کی مساوات کے تحت سعودی گہرائی میں یمنی کارروائیوں کی حمایت کی گئی۔ اعلامیے میں محاذوں اور تربیتی مراکز کو افرادی قوت فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا، جبکہ دشمن کی صف میں کھڑے "گمراہ” افراد سے اپیل کی گئی کہ وہ عام معافی سے فائدہ اٹھا کر وطن کی صف میں لوٹ آئیں اور سعودی عرب کی خاطر یمنیوں کا خون بہانا بند کریں۔
تعز کے ضلع الصلو میں قبائل نے نفیر عام کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذمت کی اور خواتین اور بچوں کے خلاف کیے گئے جرائم کو جنگی جرائم قرار دیا۔ صعدہ کے سرحدی ضلع رازح میں مشائخ اور معززین نے جارحیت کے خاتمے اور محاصرہ اٹھنے تک مسلح افواج کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا، جبکہ حجہ کے ضلع وشحہ اور صنعاء کے ضلع الحیمہ الداخلیہ میں بھی بڑے مسلح قبائلی اجتماعات ہوئے۔
الحدیدہ کے ساحلی ضلع الصلیف میں قبائل نے ہوائی اڈوں، تیل تنصیبات اور سعودی فوجی اجتماعات پر یمنی کارروائیوں کو برسوں سے مسلط محاصرہ توڑنے کی جنگ کا حصہ قرار دیا اور مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کے سعودی الزامات کو جارحیت کے نشانات چھپانے کی کوشش کہہ کر مسترد کیا۔ الصلیف کے اعلامیے میں غزہ کے فلسطینی عوام اور ان کی مزاحمت کی حمایت اور "وحدت ساحات” کی مساوات پر ثابت قدمی کا عہد بھی دہرایا گیا۔ اس سے دو روز قبل جمعہ کو صوبہ الجوف کے الحزم، المتون، الزاہر اور برط العنان سمیت متعدد اضلاع میں بھی نماز جمعہ کے بعد بڑی وقفات ہوئیں۔ بمباری، محاصرے اور بھوک کے باوجود یمنی معاشرے کا یہ اتحاد بتاتا ہے کہ ریاض کی جنگ اس قوم کا حوصلہ نہیں توڑ سکی۔
ماخذ: سبا نیوز ایجنسی، یمانیون، السیاسیہ


