یمن اردو: جنوبی یمن کے صوبے لحج کے اہم ضلع المقاطرہ میں ہفتے کے روز سعودی حمایت یافتہ دستوں نے صنعاء کی افواج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ یہ خبر یمنی خبر رساں ادارے البوابہ الاخباریہ الیمنیہ نے المقاطرہ کے قبائلی ذرائع کے حوالے سے دی ہے۔
چوتھے بریگیڈ کے دستوں نے اسلحہ حوالے کر دیا
قبائلی ذرائع کے مطابق طور الباحہ محاذ سے تعلق رکھنے والے چوتھے بریگیڈ کے کئی دستوں نے، جن کی قیادت ابو بکر الجبولی کرتا ہے، اپنا ساز و سامان اور اسلحہ صنعاء کی افواج کے حوالے کر دیا۔ صنعاء کی افواج ضلع کے مرکز تک پہنچ چکی ہیں۔
خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں میں اس ضلع میں تیزی سے حالات بدلے۔ صنعاء کی افواج نے المقاطرہ کے انتظامی مرکز سوق الربوع کی بلند اور اہم چوکیوں پر اپنا اختیار قائم کر لیا، جو طور الباحہ محاذ کا سب سے مضبوط گڑھ سمجھا جاتا تھا۔
مزید پڑھیں: سعودی بمباری نے تعز کو عدن سے ملانے والی اہم سڑک ہیجہ العبد تباہ کر دی
المقاطرہ کا تاریخی قلعہ
ادارے کے مطابق صنعاء نے جنوبی یمن کی سب سے اہم بلندیوں میں سے ایک، المقاطرہ کے قلعے پر بھی اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے، اور انصار اللہ کے حامی کارکنوں نے قلعے کے اندر سے تصویریں جاری کی ہیں۔ یہ قلعہ یمن کی تاریخ کے کئی اہم موڑ پر بڑا کردار ادا کر چکا ہے۔
یہ قلعہ اونچائی پر ہے اور یہاں سے لحج کے وسط سے لے کر عدن تک کا علاقہ صاف دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ جنوبی تعز سے یمن کے مغربی ساحل تک کے علاقوں کو محفوظ بناتا ہے۔
سعودی جتھوں کو جنوب سے نکالنے کی مہم
خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ المقاطرہ مغربی اور وسطی لحج کے ان تین اضلاع میں سے ایک ہے جہاں صنعاء کی افواج سعودی عرب کے جمع کیے گئے جتھوں کو باب المندب کے جنوب سے نکالنے کی مہم کے دوران پہنچ چکی ہیں۔
یمنی عوام کا کہنا ہے کہ ان کی افواج اپنی سرزمین کو سعودی جارحیت اور اس کے آلہ کاروں سے آزاد کرانے کے لیے ڈٹی ہوئی ہیں، جبکہ سعودی عرب اس پیش قدمی کو روکنے کے لیے سڑکوں اور شہری ڈھانچے پر بمباری کر رہا ہے۔


