یمن اردو: ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ صرف 9 دنوں کے اندر آبنائے ہرمز میں قانون توڑ کر گزرنے کی کوشش کرنے والے 11 تیل بردار جہاز آگ کی لپیٹ میں آ کر جل گئے، اور ان میں سے کچھ سمندر کی تہہ میں ڈوب بھی گئے۔ یہ بیان پیر کے روز ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم، پریس ٹی وی اور المیادین نے نشر کیا۔
پاسداران کی بحریہ کے مطابق یہ سلسلہ 25 اکتوبر سے شروع ہوا، یعنی اس دن سے جب امریکی فوج کی مرکزی کمان کے سربراہ بریڈ کوپر نے دکھاوے کے لیے آبنائے ہرمز کا دورہ کیا تھا۔ بحریہ نے اپنے بیان کے ساتھ جلتے ہوئے جہازوں کی ایک تصویر بھی جاری کی۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز میں دو تیل بردار جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر پھٹ گئے
اس سے پہلے اتوار کی رات پاسداران کی بحریہ نے بتایا تھا کہ ممنوعہ راستے سے گزرنے والے دو تیل بردار جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر پھٹ گئے، جن میں سے ایک بہت بڑا جہاز آگ میں جل رہا تھا۔ ایران کہہ چکا ہے کہ آبنائے ہرمز سے صرف اجازت والے راستے سے ہی گزرا جا سکتا ہے۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جب تک امریکہ اپنی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا اور تہران کے مطالبات نہیں مانتا، آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی، اور اب فیصلہ واشنگٹن کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری طرف روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیوں کی تیاری کے آثار پر گہری تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ ماسکو مسئلے کے حل کے لیے ثالثی میں مدد کرنے کو تیار ہے۔
ماخذ: تسنیم، پریس ٹی وی، المیادین


