یمن اردو: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کو مضبوط اور سوچا سمجھا جواب دے دیا ہے، اور اب جنگ کو روکنا امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے یہ بات منگل کو پارلیمنٹ کے اجلاس سے پہلے اپنی تقریر میں کہی۔

ایرانی خبر رساں اداروں تسنیم اور ارنا کے مطابق قالیباف نے کہا کہ خطے کے ملک جان لیں کہ ایران ایک طرف لڑائی کے لیے پوری طرح تیار ہے اور اس کی انگلی لبلبی پر ہے، اور دوسری طرف اس نے امریکہ کو مضبوط اور عقل مندانہ جواب دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران زمینی اور فوجی طور پر دفاع کی سب سے اونچی تیاری میں ہے، اور اگر واشنگٹن نے پھر کوئی بڑی غلطی کی تو اسے اس بار ایک نئے میدان کا سامنا ہو گا اور وہ آج سے بھی زیادہ نکلنے کا راستہ ڈھونڈتا پھرے گا۔

مزید پڑھیں: امریکہ نے دوبارہ حملہ کیا تو جنگ مغربی ایشیا تک محدود نہیں رہے گی، ترجمان ایرانی فوج محمد اکرمی نیا

قالیباف نے کہا کہ دشمن کی کسی بھی غلط سوچ کا ایرانی جواب ایسا ہو گا جس کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکے گا، اور یہ جواب جغرافیائی سرحدوں کی پروا کیے بغیر دشمن کے منصوبوں اور اس کے ہر طرح کے اثاثوں کو تباہ کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ایرانی قوم کی ثابت قدمی کے سامنے حیران ہیں اور دھمکیوں اور فوجی کارروائیوں سے ایران کو جھکانا چاہتے ہیں، مگر ایران کبھی نہیں جھکے گا۔

اسپیکر نے 4 نومبر کو منائے جانے والے عالمی سامراج کے خلاف جدوجہد کے قومی دن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ جب سے طاقت میں آیا ہے، ایران کو نگلنا چاہتا ہے۔ پہلے وہ یہ کام کٹھ پتلی حکمرانوں کے ذریعے کرتا تھا اور اب فوجی، معاشی اور نفسیاتی جنگ کا سہارا لے رہا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کی دھمکی دی ہے اور امریکی حکام نے جزیرہ قشم پر حملے کا اعتراف کیا ہے۔ اس سے پہلے ایرانی فوج کے ترجمان بھی خبردار کر چکے ہیں کہ نئی امریکی جارحیت کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔

ذریعہ: تسنیم نیوز ایجنسی، ارنا