یمن اردو: ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے ایران پر دوبارہ حملہ کیا تو اسے فوری، کاری اور پہلے سے کہیں زیادہ وسیع جواب ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نئی جنگ چھڑی تو لڑائی کا میدان صرف مغربی ایشیا تک محدود نہیں رہے گا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر اور لبنانی چینل المیادین کے مطابق ترجمان نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج ملنے والے احکامات کے تحت اپنے اہداف کی فہرست کو نئے سرے سے تیار کر رہی ہیں، جس میں امریکہ اور اسرائیل کے ہر طرح کے مادی اور غیر مادی اثاثے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر دشمن نے کوئی نئی مہم جوئی کی تو امریکہ کی تنصیبات، سامان، فوجی اور مفادات جہاں بھی پہنچ میں ہوں گے، ایرانی جواب کا نشانہ بن سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران کی ایٹمی تنصیب پر ایک گھنٹے میں حملہ کر سکتے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
بریگیڈیئر جنرل اکرمی نیا نے یہ بھی بتایا کہ دشمن عراق کے کردستان علاقے میں موجود انقلاب مخالف اور علیحدگی پسند گروہوں کو ہتھیار دے کر ایران کی مغربی سرحد سے زمینی محاذ کھولنا چاہتا تھا۔ ان کے مطابق ایرانی فوجی دستوں کی تعیناتی اور ان گروہوں کے ٹھکانوں کے خلاف پیشگی کارروائیوں نے دشمن کا یہ منصوبہ ناکام بنا دیا۔
یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کی دھمکی دی ہے، اور امریکی حکام نے جزیرہ قشم پر حملے کا اعتراف بھی کیا ہے۔ اس سے پہلے ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب آبنائے ہرمز کے قریب امریکہ کا 55 واں ایم کیو 9 ڈرون مار گرا چکی ہے۔
ذریعہ: مہر نیوز ایجنسی، المیادین


