یمن اردو: قطر کے چینل الجزیرہ کے تحقیقی پروگرام "ما خفی اعظم” نے غزہ کی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کی خفیہ دستاویزات دکھائی ہیں، جن سے پتا چلتا ہے کہ طوفان الاقصیٰ کا منصوبہ مسجد اقصیٰ اور فلسطینی قیدیوں پر اسرائیلی ظلم کے جواب میں بنا تھا۔ دستاویز میں صاف لکھا تھا کہ اگر اسرائیل القدس اور جیلوں میں زیادتیاں روک دے تو یہ منصوبہ منسوخ کر دیا جائے گا۔

زیر زمین کمرے میں اجلاس

الجزیرہ کے مطابق 11 فروری 2023 کو غزہ میں ایک محفوظ زیر زمین کمرے میں القسام کی چھوٹی عسکری کونسل کا اجلاس ہوا، جس کی پوری کارروائی تحریری طور پر محفوظ کی گئی۔ دستاویز میں حاضرین کے خفیہ نام درج ہیں: "الحاج” یعنی یحییٰ السنوار، "علی” یعنی محمد الضیف، "سعد” یعنی مروان عیسیٰ، اور "ابو ابراہیم” یعنی محمد السنوار۔

اسی اجلاس میں ایک کارروائی کی تیاری شروع کرنے کا فیصلہ ہوا، جسے اس وقت "منصوبہ فہد” کا نام دیا گیا۔ دستاویز کے مطابق اس کی وجہ انتہا پسند اسرائیلی حکومت آنے کے بعد مسجد اقصیٰ اور قیدیوں پر بڑھتی زیادتیاں تھیں۔

مزید پڑھیں: غزہ کی تازہ ترین خبریں

محمد الضیف کا حکم

رپورٹ کے مطابق 5 اکتوبر 2023 کو محمد الضیف کی صدارت میں القسام کی قیادت کا چھ گھنٹے طویل اجلاس ہوا، جس کے بعد انہوں نے باقاعدہ حکم نامے پر دستخط کیے اور کارروائی کا وقت ہفتہ 7 اکتوبر صبح ساڑھے چھ بجے مقرر کیا۔

پروگرام میں پہلی بار ایسے مناظر بھی دکھائے گئے جن میں محمد الضیف کارروائیوں کے کمرے میں اسرائیلی ٹینک "مرکاوا” کے اصل جتنے بڑے نمونے کے پاس کھڑے ہو کر اس کی کمزور جگہیں سمجھا رہے ہیں، اور بعد میں زمینی جنگ کے دوران ایک سرنگ سے ٹیلی فون پر لڑائی کی نگرانی کر رہے ہیں۔

اسرائیل کی غلط فہمی

اسرائیلی خفیہ ادارے شاباک کے ایک سابق افسر نے پروگرام میں مانا کہ اسرائیل اپنی برتری کے گھمنڈ میں رہا اور تیاری کے اشارے نہ پکڑ سکا۔ الجزیرہ کے مطابق دستاویزات بتاتی ہیں کہ طوفان الاقصیٰ ایک سوچا سمجھا اور منظم منصوبہ تھا، جس کی ہر قدم پر جانچ کی گئی۔

ذریعہ: الجزیرہ