یمن اردو: سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں واقع دمام کے شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر منگل 20 اکتوبر کو فضائی آپریشن ایک بار پھر معطل ہو گیا۔ پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ "فلائٹ ریڈار” کے اعداد و شمار کے حوالے سے المساء پریس نے بتایا کہ اس سے قبل آج ہی دمام ایئرپورٹ پر خلل جاری رہا اور اس کی فضا میں پھنسی پروازوں کا رخ القصیم ہوائی اڈے کی طرف موڑ دیا گیا۔ المسیرہ نے بھی فوری خبر میں فلائٹ ریڈار کے حوالے سے دمام ایئرپورٹ پر فضائی سرگرمیاں دوبارہ رکنے کی تصدیق کی۔
یمنی ویب سائٹ الخبر الیمنی کے مطابق فلائٹ ریڈار 24 پر آمد کی فہرست میں 16 پروازیں منسوخ اور 6 تاخیر کا شکار دکھائی گئیں، جبکہ روانگی کی فہرست میں 27 پروازیں منسوخ اور 24 تاخیر کا شکار ریکارڈ ہوئیں۔ الخبر الیمنی نے یاد دلایا کہ قطر ایئرویز نے 13 اکتوبر کو موجودہ حالات کا حوالہ دیتے ہوئے ریاض اور دمام کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
مزید پڑھیں: سعودی تیل اور ہوائی اڈے نشانے پر، 48 گھنٹوں میں 6 یمنی کارروائیاں
المساء پریس کے مطابق سعودی ہوائی اڈے کئی ہفتوں سے مسلسل خلل اور بار بار بندش کا سامنا کر رہے ہیں، جس کی وجہ ریاض کے شاہ خالد ایئرپورٹ، ابہا ایئرپورٹ اور دمام ایئرپورٹ پر یمنی حملے ہیں۔ ان حملوں کے باعث ہزاروں پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں اور درجنوں عالمی فضائی کمپنیوں نے مملکت کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق ریاض ایئرپورٹ اب بھی بند ہے اور اسے دوبارہ کھولنے کا کوئی واضح منصوبہ سامنے نہیں آیا، جبکہ یمن ایکو نے 18 اکتوبر کو فلائٹ ریڈار کے حوالے سے بتایا تھا کہ شاہ خالد بین الاقوامی ایئرپورٹ مسلسل آٹھویں روز بھی بند رہا۔ یہ صورتحال صنعاء کی افواج کی اس وارننگ کے بعد ہے جس میں فضائی کمپنیوں کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے سوا سعودی ہوائی اڈے اور فضائی حدود استعمال کرنے سے منع کیا گیا تھا۔
ادھر یمنی حکومت کے ترجمان ڈاکٹر عمر البخیتی نے اعلان کیا ہے کہ یمن اپنا دفاع جاری رکھے گا، "محاصرے کے بدلے محاصرہ اور تصعید کے بدلے تصعید” کی مزاحمتی مساوات نافذ کرتا رہے گا اور سعودی دشمن کی تحشیدات کو جہاں بھی ہوں نشانہ بنائے گا۔ المسیرہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ یمنی عوام جارحیت کے خاتمے اور محاصرہ اٹھائے جانے تک مزید وسیع کارروائیوں اور زیادہ سخت حملوں سے جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے سعودی سرزمین کی گہرائی اور دیگر محاذوں پر یمنی مسلح افواج کی درست کارروائیوں اور بڑی کامیابیوں کو سراہا اور انہیں یمنی عوام کی ثابت قدمی اور قربانیوں کا ثمر قرار دیا۔
ڈاکٹر عمر البخیتی نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ یمنی مسلح افواج کی وارننگز پر کان دھریں، اور فضائی کمپنیوں کو خبردار کیا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی فضائی حدود کے سوا سعودی فضا اور ہوائی اڈے استعمال نہ کریں، کیونکہ یمن اپنے دفاع میں کارروائی کر رہا ہے، جبکہ جنگ کا آغاز، محاصرہ اور سابقہ معاہدوں کی خلاف ورزی سعودی حکومت نے کی۔ انہوں نے سرمایہ کاروں اور آرامکو کے حصص داروں سے مالی نقصان سے بچنے کے لیے اپنی سرمایہ کاری اور فنڈز نکالنے کا مطالبہ کیا، اور شہریوں، مسافروں اور کارکنوں سے کہا کہ وہ سعودی ہوائی اڈوں اور تیل تنصیبات سے دور رہیں، کیونکہ ریاض محفوظ دارالحکومت نہیں ہے۔
ماخذ: المسیرہ، المساء پریس، الخبر الیمنی، یمن ایکو


